مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کشمیریوں کے آزادی کے مطالبے کو دبانے کے لیے جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، حریت کانفرنس

5اگست کو ''یوم سیاہ '' کے طور پر منایا جائے گا، ترجمان

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے تنازعہ کشمیر پر ہٹ دھرمانہ بھارتی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قیادت اپنے جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی جبر کے بارے میں عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیر کے حوالے سے بھارت کی ظالمانہ پالیسی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت جموں وکشمیر پرجاری اپنے غیر قانونی قبضے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈال کر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور انتہائی ڈھٹائی کیساتھ اٹوٹ انگ کی رٹ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت اپنے ہندوتوا نظریے کو زبردستی مسلط کر رہی ہے اور مقبوضہ علاقے میں سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور پٹوار خانوں بھارتی ترنگا لہرا کر بھارتی قومی علامتوں کو فروغ دے رہی ہے۔ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایسے اقدامات سے جموں و کشمیر کی سیاسی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں کے آزادی کے مطالبے کو دبانے کے لیے جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبا رہی ہے۔ حریت کانفرنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز بے گناہ لوگوں کو گرفتار کرنے اور انہیں بھارت سے آزادی کا مطالبہ کرنے سے روکنے کے لیے مقبوضہ علاقے میں وسیع پیمانے پر گھروں پر چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ترجمان کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسیوں ”این آئی اے، ایس آئی اے ، ای ڈی ”وغیرہ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے کارکنوں کو گرفتار کرنے اور ان کی جائیدادوں کو ضبط کرکے کشمیریوں کو خاموش کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ترجمان نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابترصورتحال کا نوٹس لیں اور انہیں انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دلانے کے لیے کردار ادا کیرں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا اور اس غیر قانونی قدام کے خلاف کشمیریوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے پورے مقبوضہ علاقے کا لاک ڈائون کر لیا ۔ بیان میں5 اگست 2019 کے تمام غیر قانونی اقدامات کو منسوخ کرنے، تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی، بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس مرتبہ بھی 5اگست کو بطور یوم سیاہ منایا جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button