بھارت

وزیر داخلہ چھپ نہیں سکتے، ایک دن انہیں گھسیٹ کر باہر نکالیں گے،ملکار جن کھرگے

طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی اور پیلٹ گن کے استعمال کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

نئی دلی: بھارت میں کانگریس پارٹی کے صدر اور پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہاہے کہ جنتر منتر میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبا کے احتجا ج پر پیلٹ گن کے استعمال کے ذمہ دار وزیر داخلہ اب بند دروازوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن ضرور انہیں گھسیٹ کر باہرنکالیں گے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملکار جن کھرگے نے راجیہ سبھا میں اینٹی پیپر لیگ ترمیمی بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی اور پیلٹ گن کے استعمال کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ اس بل سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ دو سال پہلے جب اصل قانون بنایاگیا تھا تو اس وقت سخت دفعات کیوں اس میں شامل نہیں کی گئی تھیں ؟ انہوں نے کہاکہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے نوجوانوں کا مسئلہ اٹھا کر قانون میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔کھرگے نے کہا کہ یہ بل ابھی تک نامکمل ہے اور یہ موجودہ صورتحال کو پرسکون کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل سڑکوں پر آنے والے طلبا کو پرسکون کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو طلبا کے سامنے جھکنا پڑا اور وزیر اعظم کووزیر تعلیم دھرمیندرپردھان کو ہٹانا پڑا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کو اقتدار کھونے کا ڈر تھا اس لیے یہ کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے عہدے کو بچانے کے لیے یہ سب کیا۔انہوں نے اس معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر داخلہ خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ طلبا حکومت کو اس سے کہیں بدتر سبق سکھا سکتے ہیں جو وہ پہلے ہی پڑھا چکے ہیں۔ملکار جن کھرگے نے دعوی کیا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران تقریبا 50 طلبہ زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے اور بعض کو چھرے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ طلبا کے زخمی ہونے کے ذمہ دار ہیں۔کانگریس صدر نے شاہ کی ایوان سے غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اب چھپ نہیں سکتے۔ انہوں نے سوال کیاکہ طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر داخلہ ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button