مسلمانوں کے خلاف98 فیصد نفرت انگیز جرائم بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں ہوتے ہیں

نئی دہلی : انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رپورٹس کے مطابق بھارت میں 2014 میں بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ نفرت انگیز جرائم بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں ہوئے ہیں جن میں نفرت انگیز تقاریر، ہراسانی اور تشدد شامل ہیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اپریل 2026 میں مسلمانوں کے خلاف 98 فیصد نفرت انگیز جرائم بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میںانجام دیے گئے ۔رپورٹس بتاتی ہیں کہ ان واقعات میںملوث تقریباً 85 فیصدافراد بی جے پی یا اس کی اتحادی ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ بہت سے کیسز میں بھارتی پولیس اور ایجنسیوں کی مدد طلب کرنے والے متاثرین کو ہی نشانہ بنایاگیا۔آزاد مانیٹرنگ گروپس اور انسانی حقوق کے علمبرداروںنے حالیہ برسوں میں اس طرح کے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔اس سے قبل” انڈیا ہیٹ لیب “جیسی تنظیموں نے بتایاتھا کہ نفرت انگیز تقاریر اور ڈرانے دھمکانے کے تقریباً 88 سے 93فیصد واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آتے ہیں۔انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے چار مہینوں کے دوران آٹھ ریاستوں میں مذہبی تعصب کی بنیادپر کم از کم 13 مسلمانوں کو قتل کیاگیا ہے۔سب سے زیادہ ہلاکتیں بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں ہوئیں جن میں بی جے پی یا اس کی سیاسی اتحادیوں کی حکومتیں ہے۔سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوںمیں فرقہ وارانہ کشیدگی اور اشتعال انگیزی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے جو اکثر مذہبی جلوسوں یا سیاسی ریلیوں کے دوران پیش آتے ہیں۔ اپریل 2026 میں پیش آنے والے اقعات میںہائی وے پر مسلماں ٹرانسپورٹرزپر حملے اور شہروں اوردیہات میں ہراساں کیے جانے کے واقعات شامل ہیں۔
دریں اثناءاقوام متحدہ کے اداروں اور خصوصی نمائندوں نے بار بار بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرائی۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے 2020سے2026 کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق 91 مراسلے ارسال کئے ۔تاہم ان مراسلوں سے بھارت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بھارت کا اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت جس کا بھارت بدستور ایک رکن ہے،عالمی برادری کی جانب سے رکن ممالک کو جوابدہ بنانے میں ناکامی ہے۔








