66سالہ بھارتی مسلم شہری ، شناختی دستاویزات کے باوجود بنگلہ دیشی قرار،3ماہ سے جیل میں قید
کولکتہ :بھارتی ریاست مغربی بنگال میں 66سالہ مسلمان دیہاڑی دار مزدور جلیل اختر تقریبا تین ماہ سے جیل میں قید ہیں، جہاں پولیس نے انہیں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہری قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جلیل کے اہل خانہ اور وکیل نے بھارتی پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایاہے کہ جلیل اختر کے پاس بھارتی شہریت اور طویل عرصے سے ریاست میں رہائش کے متعدد دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔جلیل اختر ضلع اتر دیناج پور کے گائوں بگرائیل کے رہائشی ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق انہیں رواں سال19اور 20 جولائی کی درمیانی شب گھر سے گرفتار کیا گیا۔جلیل کے کزن محمد متیع الرحمن کے مطابق اہلِ خانہ کو اگلی صبح معلوم ہوا کہ جلیل گھر پر موجود نہیں۔ خاندان نے پولیس سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ جلیل کو کسی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ بعد ازاں 21جولائی کو پولیس نے ان کے خلاف امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025کی دفعہ 21کے تحت مقدمہ درج کیا اور انہیں مبینہ غیر قانونی تارکِ وطن قرار دیتے ہوئے گرفتاری ظاہر کی۔جلیل اختر کے پاس ووٹر شناختی کارڈ، آدھار کارڈ اور راشن کارڈ موجود ہیں ۔ ان کے اہلخانہ کے مطابق ان کا نام 2002کی انتخابی فہرست میں بھی درج ہے، جبکہ اس سے قبل کی انتخابی دستاویزات میں ان کے والد اور دادا کے نام بھی شامل ہیں۔خاندان کا کہنا ہے کہ جلیل نے 2026کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ دیا تھا اور انہوں نے کبھی بنگلہ دیش یا کسی دوسرے ملک کا سفر نہیں کیا ہے ۔جلیل کے وکیل مختار احمد کا کہنا ہے کہ عدالت میں شناختی دستاویزات کئی مرتبہ پیش کی جا چکی ہیں، تاہم پولیس کی جانب سے تصدیق کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ وکیل نے مزیدکہاکہ جلیل کو ایک موقع پر بھارت-بنگلہ دیش سرحد کی جانب لے جانے کی کوشش کی گئی، لیکن انہیں بنگلہ دیشی ثابت نہ کیے جانے پر واپس لایا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیم MASUMنے معاملے پر قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارتی سپریم کورٹ اور مغربی بنگال کے حکام سے رجوع کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔جلیل کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بیماراورگھر کے والد کفیل ہیںاور انکی طویل گرفتاری نے پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔جلیل اختر اس وقت اسلام پور جیل میں قید ہیں۔









