بھارت

پہلگام واقعہ اور بھارتی فالس فلیگ آپریشنز،مودی حکومت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد:پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے سرکاری بیانیے، سیاسی مقاصد اور مبینہ فالس فلیگ آپریشنز پر سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ مبصرین اسے بھارتی حکومتی طرزِ عمل کاتسلسل قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب ریاست بہارکے انتخابات قریب تھے اور بھارت میں انتخابی مراحل کے دوران ایسے واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس واقعے کو آپریشن سندور کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ بھارتی میڈیا نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کر دیے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گودی میڈیا جنگی جنون کو ہوا دیتا ہے اور بغیر شواہد کے پاکستان پر الزام عائد کر کے حکومتی ردعمل کو بھڑکاتا ہے۔ ان کے مطابق بیانیے میں موجود تضادات اور شواہد کی کمی اس کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اس واقعے کی غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی پیشکش کی اور ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کی، تاہم بھارت نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ رپورٹس کے مطابق واقعے کے فوری بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا، اوڑی نالہ بارہمولہ میں دو شہری جاں بحق ہوئے اور سرینگر کے لال چوک میں لاک ڈائون نافذ کیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے چار مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کیں جبکہ مودی حکومت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے یکطرفہ اقدامات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ اس کے برعکس پاکستان نے دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کی۔ وزیر اعظم شہبا ز شریف نے تحقیقات میں سہولت کی پیشکش کی اور صرف بھارتی فوجی مشیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا۔ سینیٹ متفقہ قرارداد کے ذریعے بھارتی جارحیت کی مذمت کی۔مبصرین نے کہا کہ کنٹرول لائن پر جھڑپیں، بھارتی فضائیہ کی غلط بمباری، سرحدوں کی بندش اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے سفارتی اور دفاعی سطح پر تیاری بڑھاتے ہوئے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button