بھارت میں تعلیمی نظام کی بربادی، کانگریس نے وزیر تعلیم کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا

نئی دلی:بھارت میں تعلیمی نظام کی بربادی ، نیٹ پرچہ لیک ، سی بی ایس ای کے امتحان کے نتائج میں گڑبڑی کے خلاف کانگریس حرکت میں آگئی ہے۔کانگریس اپنی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا(این سی یو آئی )کے توسط سے طلبہ کی مدد کیلئے آگے آئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پارٹی میں این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار نے پریس کانفرنس کر کے طلبہ کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا اور ان سے دوسروں کی غلطی اور ناکامی پر اپنی قیمتیں جانیں نہ گنوا نے کی اپیل کی۔ کانگریس لیڈر نے طلبہ کو اپنے ساتھ ہونیوالی ناانصافی کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی اور کی ناکامی کیلئے اپنی قیمتی جان مت دیں۔ اگر لڑنا ہے تو اپنے حقوق کیلئے لڑیں۔کنہیاکمار نے پارٹی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کے آغاز میں ہی وزیراعظم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ نریندر مودی بورڈ امتحانات سے پہلے پریکشا پہ چرچا کرتے ہیں اور ریل بناتے ہیں، لیکن پیپر لیک ہونے کے بعد سائلنٹ موڈ میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس، این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے امتحان سے متعلق شکایات کا بھی ذکر کیا، جہاں طلبہ نے نصاب کے باہر سے سوال آنے اور ہر سوال کیلئے ناکافی وقت ملنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یو پی ایس سی کا نصاب لیک نہیں ہوتا، لیکن نیٹ کا پرچہ لیک ہو جاتا ہے۔ یہی اس حکومت کے بارے میں سب کچھ بتاتا ہے۔کنہیا کمار نے نیٹ اور سی بی ایس ای معاملے میں وزیراعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ آخر ایک نااہل وزیر تعلیم کو عہدے پر برقرار رکھنے کی کیا مجبوری ہے۔ انہوں نے طنز یہ انداز میں کہا کہ یہ تو آپ کی اپنی کابینہ کے وزیر ہیں، ٹرمپ کے نہیں، جن کے سامنے آپ کانپتے ہیں۔ کنہیا کمار نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت میں مختلف امتحانوں کے سے زیادہ بار پرچے لیک ہو چکے ہیں۔
کنہیا کمار نے کہاکہ مودی نوجوانوں کے خواب توڑ کر انہیں ترقی یافتہ بھارت کا تماشا دکھا رہے ہیں۔ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے وہ حکومت کیلئے شاید مذاق ہو، لیکن بچوں کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صورتحال یہ ہے کہ جب ایک سالہ طالب علم نے سی بی ایس ای سے متعلق مسائل پر آواز اٹھائی تو کچھ بے ضمیر صحافیوںنے اسے غدار قرار دے دیا۔ یا درہے کہ ویدانت نامی طالب علم کو بی جے والوں نے پاکستانی تک قرار دیا۔







