بھارتی پی ایس ایل وی سیٹلائٹ لانچ کی مسلسل ناکامیاں، قومی وسائل کا ضیاع قرار
''آئی ایس آر او'' کی ناکامیوں کی وجہ سے بھارتی خلائی پروگرام پر سوالات اٹھنے لگے
نئی دلی:
پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی-سی62)مشن کی لانچ کے چند منٹ بعد ہی ناکامی کی وجہ سے بھارت کے خلائی پروگرام کو کڑی تنقید کا سامنا ہے ۔ مشن کی ناکامی کے نتیجے میں مرکزی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اور دیگر خلائی جہاز ضائع ہو گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پی ایس ایل وی-سی62کو رواں سال 11اور12جنوری کوآندھرا پردیش میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سری ہریکوٹا سے لانچ کیا گیا تھا، تاہم لانچ کے تقریبا آٹھ منٹ بعد تیسرے مرحلے میں تکنیکی خرابی کے باعث راکٹ اپنا راستہ برقرار نہ رکھ سکا اور مشن مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ اس حادثے میں ای او ایس-این1سمیت 16سیٹلائٹس ضائع ہو گئیں۔ یہ آٹھ ماہ میں پی ایس ایل وی کی دوسری ناکام اور شرمناک کوشش ہے اور 2021سے اب تک کی پانچویں بڑی ناکامی، جس نے گزشتہ5برس میں سپلائی چینز اور ٹیسٹنگ میں شدید خلل ڈال کر آئی ایس آر او کے فلیگ شپ پروگرام میں گہری کمزوریاں اور نااہلیاں بے نقاب کی ہیں۔ یہ سب مودی حکومت کی جارحانہ اور لاپرواہ کمرشلائزیشن اور نجکاری کی پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو قومی وسائل کو ضائع کر رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے آئی ایس آر او کو متعدد تکنیکی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ جنوری 2025 سے جنوری 2026 کے دوران آئی ایس آر او کے تین مشنز کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے ادارے کی نااہلی ظاہر ہوتی ہے۔ ان ناکامیوں نے بھارت کی خلائی صلاحیتوں اور ادارہ جاتی تیاری کے بارے میں بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ2021سے اب تک مختلف مشنز کی ناکامیوں نے ادارے کی کارکردگی اور تکنیکی صلاحیت پر سوالات اٹھادیے ہیں۔گزشتہ سال مئی میں پی ایس ایل وی-سی61مشن بھی مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکا تھا جبکہ گزشتہ سال جنوری میں جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کے ایک مشن میں بھی سیٹلائٹ اپنے حتمی مدار تک نہ پہنچ سکی تھی۔ اس سے قبل اگست 2022میں سمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی ابتدائی پرواز جزوی ناکامی کا شکار ہوئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ ناکامیوں کے نتیجے میں نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ بھارت کے خلائی پروگرام کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات عالمی کمرشل سیٹلائٹ مارکیٹ میں بھارت کی مسابقتی حیثیت کو بھی کمزور کررہی ہیں۔حالیہ ناکامیوں نے بعض اسٹریٹجک پے لوڈز کو بھی متاثر کیا ہے جن میں نگرانی اور نیویگیشن سے متعلق سیٹلائٹس شامل ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ خلائی پروگرام جیسے حساس شعبے میں مستقل تکنیکی مسائل ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر تحقیق اور لانچ سے پہلے سخت جانچ پڑتال کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے نقصانات سے بچا جا سکے۔







