مقبوضہ جموں و کشمیر

عالمی برادری مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کے مقامی کارکنوں نے خطے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو دفعہ370 کی منسوخی کے بعد سے انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں نے سرینگر میں جاری اپنے بیانات میں کہا کہ بی جے پی حکومت کشمیریوں کے حق خودارادیت کے جائز مطالبے کو دبانے کے لیے کالے قوانین اور جابرانہ اقدامات کا سہارا لے رہیہے۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 سے اب تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوجی آپریشنوں اورمحاصرے اورتلاشی کی کارروائیوںکے دوران 1,062 سے زائد کشمیریوں کوشہید، 2,690 سے زائدکو زخمی اور 34,107 سے زائدکو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام سیاسی کارکنوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور عام شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے فوجیوں اور تحقیقاتی اداروں کا استعمال کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعیناتی سے مقبوضہ جموں وکشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والا علاقہ بن چکاہے جہاں بنیادی آزادیوں کو سلب کیاگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاجواز گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے، جائیدادوں پر قبضے اور آزادی اظہار پر پابندیاں علاقے میں ایکمعمول بن چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت مکمل استثنیٰ کے ساتھ مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی قوانین اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزیاں کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مقصد کشمیری عوام کی سیاسی امنگوں کو کچلنا اور تمام اختلافی آوازوں کو دبانا ہے۔کارکنوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری انسانی حقوق کے بحران کو دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کے پرامن حل سے ہی خطے میں پائیدارامن قائم ہوسکتا ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اپنی خاموشی ترک کرے اور مودی حکومت پر دباو¿ ڈالے کہ وہ علاقے میںاپنی جابرانہ پالیسیوں کو ختم کرے اور بنیادی آزادیوں کو بحال کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button