لداخ میں مسلمانوں نے شراب نوشی کے پھیلاﺅ کو مسترد کرتے ہوئے اسے مذہبی اقدار پر حملہ قرار دیا

لہہ :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے لداخ خطے میں لوگوں کی شدید مخالفت کے باوجود انتظامیہ نے مسلم اکثریتی علاقوں سمیت پورے خطے میں شراب کی فروخت بڑھانے کے لئے نئی ایکسائز پالیسی کی منظوری دے دی جس پرلوگوںمیں شدید غم وغصہ پایاجاتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ نے نوبرا، چانگتھانگ، شام اور زنسکار سمیت مختلف اضلاع میں 20 نئی دکانوں کے ذریعے غیر ملکی اور بھارتی ساختہ شراب فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس اقدام کو ماضی میںشراب پر پابندی کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔اس پالیسی کے تحت گیسٹ ہاو¿سز، گھروں، ہوٹلوں اور نجی تقریبات میں شراب کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے جس سے شراب نوشی عام ہوجائے گی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مقامی مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور سماجی اقدار کی پرواہ کیے بغیر کیا گیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شراب نوشی سماجی اور مذہبی طور پر ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے۔مقامی مبصرین اور کمیونٹی ارکان نے اس پالیسی کو مسترد کر تے ہوئے اسے سیاحت کو فروغ دینے اور آمدنی بڑھانے کی آڑ میں خطے کے سماجی تانے بانے کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ شراب نوشی کو زنسکار اور چانگتھانگ جیسے مسلم اکثریتی علاقوں تک پھیلانا لوگوںکے جذبات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو مسلسل شراب نوشی کے پھیلاو¿ کی مخالفت کررہے ہیں۔لداخ میں مذہبی تنظیمیں طویل عرصے سے خبردار کررہی ہیں کہ شراب کی دستیابی نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ثاب ہوسکتی ہے اور معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کا سول سوسائٹی کے گروپوں سے مشورہ کرنے کا دعویٰ مسلم اکثریتی اضلاع کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتا، جہاں بڑے پیمانے پر شراب نوشی کی مخالفت کی جارہی ہے۔





.jpg)

