امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے مودی حکومت کے مذہبی آزادی پر سفاکانہ حملے بے نقاب کر دئے
واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے 7 مئی 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں ڈرکسن سینیٹ آفس بلڈنگ میں "بھارت میں بگڑتی ہوئی مذہبی آزادی کے حالات” کے عنوان سے ایک سخت سماعت کا انعقاد کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ کوئی نظریاتی یا عمومی بحث نہیں تھی بلکہ مودی کی ہندوتوا حکومت کے خلاف شواہد سے بھرپور ایک سنگین فردِ جرم تھی، جس نے اقلیتوں کے منظم استحصال، قوانین اور تشدد پر مبنی اس کے فسطائی ہتھیاروں اور بھارت کی بیرونملک ناقدین کو خاموش کرانے کی کوششوں کو بے نقاب کیا ہے۔سماعت کے دوران ماہرین اور وکلا نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکثریتی حکمرانی کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دلتوں سمیت اقلیتوں کا منظم طریقے سے استحصال کیاگیا ۔ چیئرپرسن وکی ہارٹزلر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جبری تبدیلی مذہب مخالف قوانین اب 13 ریاستوں میں اقلیتوں کا گلا گھونٹ رہے ہیں، مسیحیوں کو ہندوبلوائی مکمل استثنیٰ کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں، نام نہاد "گھر واپسی” مہم بندوق کی نوک یا مشتعل ہجوم کے ذریعے مسلط کی جا رہی ہیں، جبکہ ایف سی آر اے کے ہتھیار سے مذہبی غیر منافع بخش تنظیموں اور گرجا گھروں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔ بھارت میں مذہبی آزادی تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور امریکی کمیشن مسلسل سات سال سے مطالبہ کر رہا ہے کہ بھارت کو خصوصی تشویش کا ملک قرار دیا جائے۔ اب مزیدبہانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ مودی کا بھارت عالمی سطح پر ایک اچھوت اور تنہا ریاست کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔نائب چیئرمین آصف محمود نے جبری بے دخلیوں، گرفتاریوں اور آسام میں مسلمانوں اور روہنگیا برادری کے خلاف کالے قوانین کے بے دریغ استعمال پر کڑی تنقید کی۔ انسانی حقوق کے کارکن جیلوں میںمسلسل قید ہیں جبکہ بیرونِ ملک بھارتی برادری کو جبری نگرانی، OCIکارڈز کی منسوخی اور مودی حکومت کی سرحد پار جبر کی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ ایک خوف زدہ پولیس اسٹیٹ ہے جو اپنی نفرت دنیا بھر میں برآمد کر رہی ہے۔
امریکی رکن کانگریس کرس سمتھ ، عالمی فوجداری انصاف کے سابق امریکی سفیر اسٹیفن ریپ ،انگانا پی چیٹرجی ،انڈیا ہیٹ لیب کے رقیب حمید نائیک اوردیگر نے جمہوری اقدار کے زوال اورمسیحیوں کے اداروں کی جائیدادوں کی ضبطی ، ہندو اآر ایس ایس کے لیڈروں کی نفرت انگیز تقاریر ،جعلی مقابلے ، قتل غارت کو اجاگر کیا اور کہاکہ آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف ماہرین کے آزاد پینل کی رپورٹس انتہائی تشویشناک ہیں ۔ ارجن سنگھ سیتھی، ڈیوڈ کیوری اور دیگر نے کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجار کے قتل ، امریکہ میں گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی ساز ش کو بے نقاب کیا جو سکھوں اور دیگر مخالفین کے خلاف مودی کی عالمی ہٹ لسٹ کا حصہ ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ایف سی آر اے کے ذریعے بھارت میں گرجا گھروں اور اسکولوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دلتوں سمیت اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیاگیاہے اور وہ براہِ راست ہندوتوا حکومت کے نشانے پر ہیں۔







