پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مودی کی 10 سالہ مہم ناکامی سے دوچار: بدلتی عالمی سیاست میں
پاکستان کی سفارتی کامیابیاں

محمد شہباز
معروف قطری ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی اختیار کردہ گزشتہ دس سالہ خارجہ پالیسی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 2016 میں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی جس پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا، اسے بھارتی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا۔ بھارتی حکومت کا خیال تھا کہ سفارتی دباؤ، بین الاقوامی لابنگ، پاکستان مخالف بیانیے اور علاقائی اثرورسوخ کے ذریعے اسلام آباد کو عالمی برادری میں الگ تھلگ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک دہائی کا عرصہ گزرنے کے بعد عالمی اور علاقائی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنے اس بنیادی مقصد میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔
الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ نے اس حقیقت کو عیاں کیا ہے کہ پاکستان نہ صرف عالمی سطح پر متحرک سفارتکاری جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ امریکا، چین، سعودی عرب،ایران، ترکیہ، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر اہم ممالک کیساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب اور مصروف عمل ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔
2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نریندر مودی نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو زیادہ جارحانہ انداز میں ترتیب دیا’ جس کا محور پاکستان کو الگ تھلگ کرنا تھا۔ 2016 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے سرحدی قصبہ اوڑی واقعے کے بعد مودی حکومت نے کھلے عام اعلان کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے گا۔
بھارت نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف سفارتی مہم میں شدت لائی، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر پاکستان کے خلاف اقدامات کو بلیک میلنگ کے بطور استعمال کیا ، اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ خطے میں عدم استحکام کا بنیادی محرک پاکستان ہے۔
مودی کا گھمان تھا کہ بڑی عالمی طاقتیں اس کے موقف کی مکمل حمایت کریں گی اور پاکستان بتدریج عالمی سفارتی تنہائی کا شکار ہوگا۔ تاہم بین الاقوامی سیاست کے دائو پیچ اور خطے کی بدلتی صورتحال نے بھارت کے اس مذموم منصوبے پر اوس گرادی اور وہ ناکامی سے دوچار ہوا ۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کیلئے پاکستان کو نظر انداز کرنا آسان اور ممکن نہیں ہے ۔
چین کیلئے پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم ستون ہے۔ گوادر بندرگاہ اور پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) چین کی عالمی اقتصادی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔امریکا کیلئے افغانستان، انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں پاکستان کی اہمیت نہ صرف برقرار رہی بلکہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد تو حالات نے پاکستان کے حق میں 360 ڈگری کا پلٹا کھایا ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک کیلئے پاکستان ایک قابل اعتماد دفاعی اور سیکیورٹی شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔یہ تمام عوامل بھارت کی اس ناکام کوشش کے راستے میں رکاوٹ بنے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔
مودی حکومت کو امید تھی کہ امریکا مکمل طور پر بھارتی موقف کی حمایت کرے گا۔ اگرچہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، لیکن امریکا نے کبھی بھی پاکستان سے اپنے روابط مکمل طور پر ختم نہیں کیے۔افغانستان کی صورتحال، انسداد دہشت گردی کے معاملات، خطے میں استحکام اور جوہری سلامتی جیسے معاملات میں امریکا پاکستان کیساتھ رابطے برقرار رکھنے پر مجبور رہا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان نے معدنیات، توانائی، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں امریکی پالیسی سازوں کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ پاکستان کی معیشت میں موجود مواقع اور معدنی وسائل نے بھی امریکا کی دلچسپی کو مزید بڑھایا ہے۔یہ صورتحال اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر الگ تھلگ ہو چکا ہے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات کو اکثر ’’آہنی دوستی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی منصوبوں اور صنعتی تعاون اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لیکر گئے ہیں۔چین نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی جبکہ پاکستان نے بھی چین کے بنیادی مفادات کی مسلسل حمایت جاری رکھی۔
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان اور چین کی ’’ناقابل شکست شراکت داری‘‘ آج جنوبی ایشیا کی ایک اہم حقیقت بن چکی ہے۔ یہ شراکت داری مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی کیلئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔ماضی میں بھارت یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا کہ خلیجی ممالک پاکستان سے دور ہو رہے ہیں، لیکن حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی، سیاسی، دفاعی اور اقتصادی بنیادوں پر استوار ہیں۔ سعودی عرب پاکستان میں متعدد سرمایہ کاری منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی مضبوط ہے۔جس میں ایک ریاست پر حملہ دونوں ریاستوں پر حملہ تصور ہوگا۔
متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستوں کیساتھ بھی پاکستان کے تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور یہ روابط دونوں فریقوں کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ خلیجی ممالک پاکستان کو ابھرتے ہوئے سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، جس سے اس کی علاقائی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان نے ایران کیساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی مضبوط اور مستحکم پالیسی اپنائی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات سرحدی مسائل اور علاقائی اختلافات سامنے آتے رہے، لیکن دونوں ممالک نے بہتر سفارتی رابطے برقرار رکھے۔پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ وہ ایران اور خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان توازن قائم رکھے۔ یہ متوازن خارجہ پالیسی پاکستان کو خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔گزشتہ برس ایران پر امریکہ و اسرائیل کی غیرقانونی جارحیت کے خلاف پاکستان نے کھل کر اسلامی جمہوریہ ایران کا بھرپور ساتھ دیا اور نتیجتا ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے بلند ہوئے۔ رواں برس بھی 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان ایران کیساتھ کھڑا رہا اور اب تو ایران اور امریکہ کے درمیان بطور ثالث ایک اہم کردار نبھارہا ہے، جو مودی کیلئے کسی ذلت سے کم نہیں ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں بھی حالیہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔تجارتی روابط، سفارتی تبادلوں اور علاقائی تعاون کے امکانات نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دی ہے۔یہ پیشرفت بھارت کے اس تصور کے برعکس ہے کہ جنوبی ایشیا میں تمام ممالک پاکستان سے دور ہو رہے ہیں۔
موجودہ دور میں صرف عسکری یا اقتصادی طاقت ہی اہم نہیں بلکہ اطلاعاتی اور سفارتی بیانیہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران عالمی میڈیا میں پاکستان کا مؤقف نسبتاً زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آیا۔ پاکستان نے سفارتی ذرائع، بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنا مضبوط مؤقف پیش کیا۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے دوران پاکستان نے عالمی بیانیے کی جنگ میں برتری حاصل کی، جبکہ بھارت کو کئی سوالات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اگر یہ کہا کہ پاکستان نے بھارت کو تمام محاذوں پر چاروں شانے چت کیا تو بے جا نہ ہوگا۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے بھارت کے الزامات کو بغیر ثبوت قبول کرنے سے صاف انکار کیا۔بین الاقوامی برادری نے شواہد اور تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب محض الزامات کی بنیاد پر کسی موقف کی غیر مشروط حمایت کرنے سے گریز کرتی ہیں۔یہ امر بھی بھارت کی سفارتی مہم کی محدود کامیابیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارت کی خواہش تھی کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر پس منظر میں چلا جائے، لیکن ایسا مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، بین الاقوامی میڈیا اور متعدد مبصرین وقتاً فوقتاً مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔اگرچہ عالمی طاقتوں نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا، لیکن اس مسئلے کو مکمل طور پر عالمی ایجنڈے سے خارج بھی نہیں کیا جا سکا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔شہریت ترمیمی قانون (CAA)، مذہبی اقلیتوں سے متعلق خدشات، گاؤ رکشا کے نام پر تشدد اور مختلف انسانی حقوق کے مسائل پر عالمی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا میں بھی کئی مرتبہ بھارت کی جمہوری روایات، آزادی اظہار رائے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔یہ عوامل بھارت کیلئے اپنی عالمی امیج کو برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ برسوں میں نسبتاً متوازن اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی اختیار کی ہے۔اسلام آباد نے چین کیساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکا سے بھی رابطے قائم رکھے۔ اسی طرح خلیجی ممالک، ترکیہ، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور افریقی ممالک کیساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کی گئی۔اس حکمت عملی نے پاکستان کو مختلف عالمی بلاکس کساتھ روابط برقرار رکھنے میں مدد دی۔
پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ اس کی مسلح افواج دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہیں ۔علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی،عالمی امن مشنز اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں پاکستان کا کردار بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ تمام عوامل پاکستان کو خطے کی سیاست میں ایک اہم کردار تفویض کرتے ہیں ، لہٰذا پاکستان کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔
آج کی دنیا سرد جنگ کے دور کی طرح دو واضح بلاکس میں تقسیم نہیں۔ مختلف ممالک اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد شراکت داروں کیساتھ تعلقات قائم کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کو عالمی سطح پر مکمل طور پر تنہا کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔پاکستان نے اسی حقیقت کے پیش نظر مختلف عالمی طاقتوں کیساتھ بیک وقت تعلقات استوار کیے ہیں، جس کا فائدہ اسے سفارتی میدان میں حاصل ہوا۔
ایک دہائی قبل نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا جس ہدف کا تعین کیا تھا، موجودہ حالات اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں کرتے۔ دوسری جانب بھارت کی بعض داخلہ پالیسیاں، انسانی حقوق سے متعلق تنقید اور خطے میں پیچیدہ جغرافیائی سیاسی حالات نئی دہلی کی سفارتی حکمت عملی کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں کسی ملک کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا آسان نہیں، خصوصاً ایسے ملک کو جو اہم جغرافیائی محل وقوع، جوہری صلاحیت، علاقائی اثر و رسوخ اور متحرک سفارتکاری کا حامل ہو۔ان حالات میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مودی حکومت کی دس سالہ مہم اپنے بنیادی مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ اپنی موت آپ مرچکی ہے ، جبکہ پاکستان نے بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں اپنی اہمیت اور سفارتی موجودگی برقرار رکھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں وقع پذیر ہورہی ہیں اور خطے کی طاقتوں کے درمیان تعلقات نئے رخ اختیار کر رہے ہیں۔جن میں بھارت اپنی ساکھ اور اہمیت و افادیت کھو رہا ہے۔






