مقبوضہ کشمیر :یونین ٹیریٹری نظام کو بدترین طرز حکمرانی قرار
عمر عبداللہ کا جموں وکشمیر کی ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرکے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے موجودہ یونین ٹیریٹری نظام کو بدترین طرزِ حکمرانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب حکومت سے نتائج کی توقع تو کی جاتی ہے، لیکن اسے انتظامی امور پر موثر اختیار حاصل نہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام کے تحت منتخب حکومت کے اختیارات کو بڑی حد تک محدود کر دیا گیاہے، جس کے باعث عوامی توقعات پر پورا اترنا مشکل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کے ساتھ یونین ٹیریٹری کا نظام بنیادی طور پر غیر وموثر ہے کیونکہ منتخب نمائندوں کو حکمرانی اور کارکردگی کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جاتا ہے، جبکہ اہم انتظامی اختیارات ان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں حکومت تو قائم ہے، لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ نظام کے تحت حکومت کو افسران کی تقرری، تبادلوں اور انتظامی فیصلوں کاکوئی اختیار حاصل نہیں، حالانکہ انہی افسران کے ذریعے حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کی توقع کی جاتی ہے۔عمر عبداللہ نے بجٹ سازی کے دوران فنانس سیکریٹری کے تبادلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات انتظامی تسلسل کو متاثر کرتے ہیں اور حکومتی منصوبہ بندی میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ انتظامی بندوبست کے باعث موثر حکمرانی اور پالیسیوں پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاستی درجہ دے دیا جائے تو انتظامی اور حکمرانی سے متعلق متعدد مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ ریاستی درجے کی بحالی سے منتخب حکومت کو بہتر اختیارات اور جوابدہی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔







