بھارتی فوجی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، رپورٹ

اسلام آباد 22 جنوری (کے ایم ایس)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کالے قوانین کے تحت بے لگام اختیارات سے لطف اندوز ہونے والے بھارتی فوجی استثنیٰ کے ساتھ روزانہ انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو جب نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت نے علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا تب سے بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بڑے پیمانے پر تیزی دیکھنی میں آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت مقبوضہ جموںوکشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کے عالمی گروپوں نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بار بار خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر نے 2018 اور 2019 میں جاری ہونے والی اپنی دو رپورٹس میں کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں لندن میں قائم ایک لاءفرم” اسٹوک وائٹ“ نے برطانوی پولیس میں ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں متنازعہ جموں و کشمیر میں جنگی جرائم پر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل Manoj Mukund Naravane اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قانونی فرم نے کہا کہ اس نے 2020 اور 2021 کے درمیان لی گئی 2ہزار سے زیادہ شہادتوں پر مبنی دستاویز میٹروپولیٹن پولیس کے وار کرائمز یونٹ کو جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کس طرح جنرل منوج مکند نروانے اور امیت شاہ کی سربراہی میں بھارتی فوجی انسانی حقوق کے کارکنوں ، صحافیوں اور عام شہریوں کے تشدد، اغوا اور قتل کے ذمہ دار ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف دہشت گردی کا راج قائم کر رکھا ہے اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں قتل عام، گمشدگی، تشدد اور چھیڑ چھاڑ معمول بن چکا ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے ہر اصول و ضابطے کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی طاقتوں کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کا کا احترام کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: