سرینگر : رہائشی علاقے میں غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کے علاقے راولپورہ میں لوگوںنے رہائشی علاقے میں غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں پرحکام کیبے حسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پائن ایونیو کالونی کے رہائشی مقامی مسجد کے قریب جمع ہوئے اور علاقے میں ایک ہوٹل اور مجوزہ شادی ہال کےقیام کے خلاف نعرے بازی کی ۔ مظاہرین نےکہا کہ علاقے میں تجارتی سرگرمیوں سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیںجو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر قانون کے نفاذ اور رہائشیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ اونچی آواز میں میوزک، ٹریفک جام، سڑک کے کنارے پارکنگ اور رش کی وجہ سے ہوٹل مسلسل پریشانی کا باعث بن گیا ہے جس سے مقامی لوگوں، بزرگ شہریوں اور مریضوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ انہوں نے ہوٹل سے ملحق ایک شادی ہال کے قیام کے منصوبے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی اور رہائشیوں کے لیے ناقابل برداشت حالات پیدا ہوں گے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ برسوں سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور ہوٹل سیل کرنے کے احکامات جاری ہونےکے باوجود ہوٹل بغیرکسی رکاوٹ کے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رہائشی مقاصد کے لیے منظور شدہ جگہ پر تجارتی سرگرمیاں کس طرح کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے حکام پر زوردیا کہ وہ قواعد و ضوابط کو برقرار رکھیں۔ مظاہرین نے خبردارکیا کہ انتظامیہ کی مسلسل خاموشی انہیں اپنے حقوق اور کالونی کے رہائشی کردار کے دفاع کے لئے ا حتجاج میں شدت لانے پر مجبور کرے گی۔



