پابندیاں

لہہ میں تیسرے دن بھی کرفیو نافذ، انٹرنیٹ سروس معطل

تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند،بھارتی فورسز کا سڑکوں پر گشت

لہہ:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرکے خطہ لداخ کے شہر لہہ میں جمعہ کو مسلسل تیسرے روز بھی کرفیو جاری رہا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بدھ کی شام لہہ میں مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے فائرنگ سے 4 افراد کے قتل اور 70 زخمی ہونے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیاتھا۔ انتظامیہ پورے لہہ میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی ہے۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لہہ رومیل سنگھ کے حکم پر آج سے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ لداخ کے عوام ریاست کے درجے اور چھٹے شیڈول کے نفاذ سمیت اپنے سیاسی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بھارتی پولیس نے 50سے زائد شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ضلع کرگل سمیت دیگر بڑے قصبوں میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے ۔جدید ہتھیاروں سے لیس بھارتی فوج اور پیراملٹری اہلکاروں بھارت مخالف مظاہرو ں کو روکنے کیلئے ویرانی کا منظر پیش کرنے والی لداخ کی سڑکوں پر گشت کررہے ہیں ۔علاقے کے لوگوں کو ادویات ، راشن ، دودھ اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے ۔لداخ میں پر تشدد مظاہرے ، کرفیو، قتل و غارت، گرفتاریاں اور چھاپوں سے مقبوضہ علاقے میں صورتحال معمول پر آنے کا مودی حکومت کابیانیہ بے نقاب ہو گیا ہے۔سیاسی رہنماﺅں کے مطابق مودی حکومت نے وعدوں سے انحراف اور ظالمانہ کریک ڈاﺅن کے ذریعے لداخ کے عوام کو متعدد بار دھوکہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چھ سال تک جھوٹے وعدوں کے فریب کے بعد لداخ کے عوام نے بدھ کو سڑکوں پر نکل کر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔لہہ اور کارگل میں بڑے پیمانے پر مظاہروں سے ظاہر ہوتاہے کہ دفعہ 370اور 35 اے کی منسوخی کے بعد چھ سال تک جھوٹے وعدوں کے فریب کے بعد عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔اگست 2019میں مودی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد لداخ ، لہہ اور کارگل کو احساس ہو گیاتھا انہیں سیاسی طورپر بے اختیا رکردیاگیاہے اور انہیں انکی بقاکے خطرے کا سامنا ہے ۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ لداخ کے عوام اب مکمل ریاست کا درجہ، چھٹے شیڈول میں شمولیت اور ملازمتوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں ،جوانکی منفرد شناخت ، آبادی کے تناسب ، زمینوں کے مالکانہ حقوق اور روزگار کے مواقع کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں ۔لہہ اور کارگل کے عوام میں یہ خوف تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ لداخ کی یونین ٹیریٹری کی موجودہ حیثیت سے بھارت سے بڑی تعدادمیں لوگوں کی علاقے میں آمد اور آباد ہونے کی راہ ہموار ہو گی ،جس سے آباد کے تناسب تبدیل اورانکی تہذیب و ثقافت ، زمینوں اورملازمتوں کو خطرہ لاحق ہو گا۔سیاسی مبصرین نے کہا کہ ہندوتوا آر ایس ایس کے زیر اثر تزویراتی اور عسکری حلقوں کایہ موقف رہاہے کہ لداخ خاص طور پر چین اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ سکیورٹی صرف بڑے پیمانے پر آبادکاری کے ذریعے ہی بڑھائی جاسکتی ہے ۔ لداخ کے عوام موجودی بیوروکریسی کے نظام میں خود کو مکمل طور پر بے اختیار محسوس کرتے ہیں۔ لہہ کے ایک رہائشی نے سرینگر میں میڈیا کو بتایا کہ زیادہ تر بیوروکریٹس کا تعلق بھارت سے ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button