مقبوضہ جموں وکشمیر میں عوامی مجلس عمل ، اتحادالمسلمین پر پا بندی کی شدید مذمت
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مودی حکومت کی طرف سے میر واعظ عمر فاروق کی زیرقیادت جموں و کشمیر عوامی مجلس عمل اور مسرور عباس انصاری کی زیر قیادت اتحاد المسلمین پر پابندی پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور عوامی مجلس عمل کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں تنظیم پر پابندی اور اسے غیر قانونی ایسوسی ایشن قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مجلس عمل ان کے والد نے 1964میںموئے مقدس کی تحریک کے عروج پر قائم کی تھی۔یہ عدم تشدداور جمہوری طریقے سے مقبوضہ جموں وکشمیرکے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے ، ان کی امنگوں اور حقوق کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرتی ہے جس کے لئے اس نے قید و بندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور شہادتوں کو بھی گلے لگایاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدام کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے اور بے اختیار کرنے کی پالیسی کا حصہ لگتا ہے جس پرمقبوضہ جموں وکشمیرمیں اگست 2019 سے عمل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ حق کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا توجا سکتا ہے لیکن اسے خاموش نہیں کیا جاسکتا۔
پابندی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سربراہ مسرور عباس انصاری نے کہا کہ زبردستی اور پابندیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحا دالمسلمین ہمیشہ سماجی خدمات میں پیش پیش رہی ہے اور عوام کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے، اس لیے اسکی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔مسرور عباس نے کہا کہ پابندی سے نہ تو کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی اس سے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں اور ان کے مطالبات کو دبانے کے بجائے مثبت نقطہ نظر اپنائیںتاکہ خطے میں امن و امان کی فضا قائم ہو سکے۔
کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے عوامی مجلس عمل اور جموں و کشمیر
اتحاد المسلمین پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے دونوں جماعتوں پرپابندی کا جوا پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی اور سماجی اقدامات ٹھوس حقائق پر مبنی ہونے چاہئیں۔ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ روح اللہ مہدینے بھی ایک بیان میں عوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین پر پابندی عائد کرنے پر بھارتی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ آزادی پسند کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنے کا ایک اور آمرانہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی پابندی، کوئی حکم نامہ اور کوئی دھمکی کشمیر یوں کوان کے جمہوری حقوق ا کے لیے آواز بلند کرنے سے روک نہیں سکتی ۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے میر واعظ عمر فاروق اور مسرور عباس انصاری کی زیر قیادت جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین پر پابندی جموں وکشمیر کے سماجی اور سیاسی منظر نامے کے لئے ایک اور دھچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ اختلاف رائے کو دبانے سے تنائو مزید بڑھے گا۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت انتخابات سے بڑھ کر ہے ،یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی آوازوں کو دبانے سے بی جے پی کا سیاسی ایجنڈاتوپورا ہو سکتا ہے لیکن اس سے بنیادی حقوق مجروح ہوتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے نئی دہلی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے نقطہ نظر کا از سر نو جائزہ لے اور ظالمانہ ہتھکنڈوں کو ترک کرے۔
نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی علی محمد ساگر نے کہا کہ انہیںعوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین پر پابندی کے بارے میں جان کر مایوسی ہوئی۔انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہاکہ میرواعظ خاندان امن اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کا علمبردار رہا ہے اور اس نے جموں و کشمیر کو اپنی سیکولر شناخت برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اس طرح کے اقدامات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان نے عوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی اور انسانی جذبات کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ انجمن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ عوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین نے تمام انسانی بحرانوں کے دوران مثالی کام کیا اور تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔
جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں ایک بیان میں پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی ظالمانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پالیسی سے زندگی اور آزادی کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت عائد کی گئی پابندی متنازعہ علاقے میں سیاسی تنظیموں کے خلاف ہندوتوا حکومت کا ایک اور جابرانہ اقدام ہے۔
کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے جنیوا سے جاری ایک بیان میں عوامی مجلس عمل اور اتحاد المسلمین پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ہر اس آواز کو خاموش کرنا ہے جو اس کی جابرانہ حکمرانی کو چیلنج کرتی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری سیاسی تنظیموں کے خلاف بھارت کے منظم کریک ڈائون کا نوٹس لیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے آمرانہ اقدامات سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔







