ہندوئوں کی امرناتھ یاترا کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات، کشمیری مسلمان مذہبی حقوق سے بھی محروم

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ ہندوئوں کی سالانہ امرناتھ یاتر کے انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کر رہی ہے ۔ یاترا کی سیکورٹی کی آڑ میں پیرا ملٹری کی مزید بیسیوں کمپنیاں مقبوضہ علاقے میں تعینات کی گئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق57روز ہ یا ترا 3 جولائی کو مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں پہلگام جبکہ ضلع گاندربل میں بالتل کے جڑواں راستوں سے شروع ہوگئی۔ یہ یاترا 28 اگست کو ختم ہو گی۔مقبوضہ کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے۔ بردی نے اہلکاروں کو انتہائی چوکس رہنے اور یاترا کے محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اعلی سطحی آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ یاترا کے لیے تعینات زونل اور سیکٹر افسروں کی بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے بردی نے یاترا کے راستوں پر سیکورٹی انتظامات، رابطہ کاری کے طریقہ کار اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ آئی جی پی نے 57 روزہ یاترا کے دوران پیشہ ورانہ مہارت اور چوکسی کے اعلی ترین معیار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ یاترا کے دوران پیدا ہونے والے کسی بھی سیکورٹی یا لاجسٹک چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔انہوں نے زونل افسران کو ہدایت کی کہ وہ سیکٹر افسران اور جوانوں کی باقاعدگی سے بریفنگ کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام اہلکار اپنی ذمہ داریوں اور سیکورٹی کی موجودہ صورتحال سے پوری طرح آگاہ رہیں۔ انہوں نے تعیناتی کی تمام سطحوں پر مسلسل نگرانی اور موثر رابطے پر بھی زور دیا۔آئی جی پی افسروں اور اہلکاروں سے کہا کہ یاتریوں کی ہر ممکن مدد کریں اور ان کی حفاظت، سہولت اور بہبود کو یقینی بنائیں۔
یا درہے کہ حالیہ برسوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا میں شرکت کرنے والوں کی تعداد تقریبا ساڑھے 3لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ بھارت یاتراکے انعقاد کیلئے تمام وسائل برائے کار لاتا ہے جبکہ دوسری طرف اس نے کشمیری مسلمانوں کا اپنے ہی وطن میں جینا حرام کر رکھا ہے اور وہ انکے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رہا ہے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اکثر جمعہ کے رو ز سیل کر کے کشمیری مسلمانوںکو اس میں نماز جمہ کے اہم دینی فریضے سے روکا جاتا ہے ۔کشمیری مسلمانوں کو گزشتہ 8برس سے مسلسل جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ سرینگر میں عید نماز نہیں پڑھنے دی جا رہی ہے۔ مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کے بڑے جلوسوں پر بھی پابندی عائد ہے۔ہر برس لاکھوں ہندو یاتریوں کی مقبوضہ وادی کشمیر میں آمد سے یہاں کا قدرتی ماحول بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے







