عالمی برادری تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے: حریت رہنما

اسلام آباد :کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنماو ں نے کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے اورغیر کشمیریوں کو آباد کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مودی حکومت کی سازشوں کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنماوں سید یوسف نسیم، راجہ خادم حسین اور شیخ عبد الماجد نے اسلام آباد میںجاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کی حمایت یافتہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے کشمیریوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کے ان مذموم منصوبوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حریت رہنماوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں عالمی قوانین اور بین الاقوامی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے اور دوسری طرف دس لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے کشمیری عوام کے تمام بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کر رکھا ہے۔حریت رہنماوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے جاری بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر رہی ہیں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں اور کارکنوں کو جیلوں میں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں ، کارکنوں اورصحافیوں پر زوردیا کہ وہ بھارتی جیلوں میں نظربند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی فوری رہائی کے لیے آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر ہے اور جب تک اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کا قیام ممکن نہیں۔حریت رہنماوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔







