بھارت کی بڑی کمپنی ‘ٹاٹا’پر سائبر حملہ، آئی فون اور ٹیسلا گاڑیوں کے راز چوری: رائٹرز

نئی دلی:بھارت کی ایک بہت بڑی کمپنی ٹاٹا الیکٹرانکس نے تصدیق کی ہے کہ ان کے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر اٹیک ہوا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ٹاٹا نے یہ انکشاف اس وقت کیا جب انٹرنیٹ کی دنیا پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا کہ ورلڈ لیکس نامی ایک بدنام زمانہ ہیکر گروپ نے آئی فون بنانے والی مشہور کمپنی ایپل اوربرقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے انتہائی خفیہ نقشے اور ڈیزائن انٹرنیٹ کی ایک چھپی ہوئی دنیا یعنی ڈارک ویب پر آن لائن لیک کر دیے ہیں۔ دنیا کی یہ دونوں بڑی کمپنیاں بھارتی کمپنی ٹاٹا سے اپنے پرزے بنواتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس گروپ نے ٹاٹا کے کمپیوٹروں سے چوری کی گئی دو لاکھ سے زیادہ خفیہ فائلیں انٹرنیٹ پر ڈال دی ہیں۔اس بڑے حملے کے بعد ٹاٹا الیکٹرانکس نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہفتے پہلے ٹاٹا الیکٹرانکس نے اپنے کچھ کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملے کی نشاندہی کی تھی۔ دوسری طرف اس معاملے سے وابستہ ایک باخبر شخص نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ایپل کمپنی اس چوری کی خود تفتیش کر رہی ہے اور اس کا پورا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہیکرز نے یہ ڈیٹا واپس کرنے کے بدلے ٹاٹا کمپنی سے بھاری تاوان بھی مانگا ہے، تاہم کمپنی نے اس مطالبے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ایپل نے بھی اس پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ واقعہ ایپل کمپنی کے لیے ایک نیا جھٹکا ہے کیونکہ ٹاٹا کمپنی چین سے باہر ایپل کے لیے آئی فون بنانے والی سب سے اہم پارٹنر بن کر ابھر رہی ہے۔
ڈیٹا چوری کرنے والے گروپ ورلڈ لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر دعوی کیا ہے کہ یہ سارا ڈیٹا ٹاٹا الیکٹرانکس کا ہی ہے۔سائبر سیکیورٹی کے ماہر راج شیکھر راجاہریہ نے ان فائلوں کو دیکھنے کے بعد بتایا کہ ان میں نہ صرف کمپنیوں کے راز ہیں بلکہ ملازمین کی ای میلز، پرانے ریکارڈ اور کئی غیر ملکی ملازمین کے پاسپورٹ کی کاپیاں بھی شامل ہیں۔ایک اور سیکیورٹی ماہر راکیش کرشنن نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ چوری شدہ ڈیٹا پچھلے کئی دنوں سے انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ان فائلوں میں ٹیسلا کمپنی کی نئی ماڈل والی گاڑی کے چارجنگ سسٹم کے ڈیزائن اور ماڈل تھری گاڑی کے وہ بلیو پرنٹ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ ان فائلوں میں آئی فون کے سرکٹ بورڈ کی کوالٹی چیک کرنے کے طریقے اور ٹاٹا کی تامل ناڈو میں واقع آئی فون فیکٹری ہوسور کی بھی 32 فائلیں شامل ہیں۔







