حجاب پر پابندی اٹھانے کے خلاف ردعمل سے بھارتی سیکولرازم کا بھانڈا پھوٹ گیا: تجزیہ کار

نئی دہلی:بھارتی ریاست کرناٹک کے کالجوں میں زعفرانی شالوں کی نمائش اور حجاب پر پابندی اٹھانے کے خلاف شدید ردعمل سے ایک بارپھر بھارتمیں سیکولرازم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت ادارہ جاتی سطح پر اکثریتی ریاست کے طور پر کام کر رہا ہے جس کی بنیاد ہندوتوا کی انتہاپسندی پرہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والا ملک اپنی اقلیتی آبادی کے ذاتی اور مذہبی معاملات پر آمرانہ کنٹرول چاہتا ہے۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ وہی فسطائی ذہنیت جو بھارتی ریاستوں میں مسلمان شہریوں پرپابندیوں کا باعث ہے، مقبوضہ جموں وکشمیرپر ظالمانہ فوجی قبضے کی ذمہ دار ہے۔ بھارت نے محض کپڑے کے ایک ٹکڑے پر بنیاد پرست گروہوں کو تعلیمی اداروں میں خلل ڈالنے کی اجازت دے کر اقلیتی خواتین کی حفاظت اور تعلیم کو قربان کرتے ہوئے اپنا اختیار اکثریتی ہجوم کو دے رکھاہے۔






