مودی کی ناقص حکمت عملی، منی پور میں خانہ جنگی کے شدید خطرات
امپھال:شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں جاری نسلی کشیدگی اور قبائلی تنازعات نے ایک بار پھر مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں اور مجرمانہ غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی کی مجرمانہ خاموشی کے باعث منی پور میں جاری بدترین نسلی فسادات 1990 کی دہائی جیسی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات پر پروپیگنڈا کرنے والا بھارتی میڈیا منی پور کی تباہی پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
منی پور گزشتہ دو برس سے شدید نسلی تشدد، نقل مکانی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کا شکار ہے، تاہم بھارتی حکومت اس بحران کے مستقل حل میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلسل خاموشی اور غیر سنجیدہ رویے نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔بھارتی جریدے ہندوستان ٹائمز کے مطابق یوکھرل ضلع میں قبائلی تنازعے نے حالیہ دنوں میں کم از کم 50 گھروں کو تباہ کر دیا جبکہ 20 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی دانشوروں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی بے عملی نے ریاست کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔معروف ماہر تعلیم پروفیسر اجائیلیو نیومائی کے مطابق مودی حکومت کی غفلت سے جنم لینے والا موجودہ تنازعہ 1990 کی دہائی کے خونریز تصادم سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست میں اعتماد کا بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔منی پور کے قبائلی رہنماں نے مودی کے انتہا پسند ہندوتوا نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الگ انتظامیہ کا حتمی اعلان کیاہے۔ منی پور کے معروف صحافی دھیرین سادوکپم کے مطابق مودی کی سرپرستی میں انتہا پسند عناصر منی پور کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیئرمین ہل ایریا کمیٹی ، جنرل سیکرٹری تھادو اِنپی منی پور سمیت دیگر مقامی رہنمائوں نے حکومتی پالیسیوں سے شدید مایوسی کا اظہار کیا۔







