جنیوا میں منعقدہ سمینار میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈیجیٹل جبر پراظہار تشویش
جنیوا: جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک سیمینار میں تنازعات سے متاثرہ خطوں بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل جبر اور شہری آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (KIIR) نے کمیونٹی ہیومن رائٹس ایڈووکیسی سنٹر (CHRAC) کے اشتراک سے ”ڈیجیٹل رائٹس اینڈ سوک اسپیسز“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا۔ تقریب میں انسانی حقوق کے کارکنوں، ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔مقررین نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں پرامن اختلاف رائے کو دبانے اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ حق خودارادیت میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے انٹرنیٹ بندش، بڑے پیمانے پر نگرانی، مواد ہٹانے اور سنسرشپ کو اجاگرکیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کی نگرانی اور طویل مواصلاتی بلیک آو¿ٹ نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگرکرنے، پرامن سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد اور بین الاقوامی اداروںکے ساتھ روابط کو مشکل بنادیا ہے۔کے آئی آئی آر کے نمائندے نے کہا کہ ڈیجیٹل آلات کو جن سے شہریوں کی شمولیت بڑھنی چاہیے، جوابدہی اور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حقوق کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ پرپابندیاں اور نگرانی نہ صرف ڈیجیٹل حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بامعنی خود مختاری کے لیے ضروری بنیادی آزادیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔سیمینار میں متنازعہ علاقوں میں ڈیجیٹل جبر کی بین الاقوامی تحقیقات، تنازعات کے دوران انٹرنیٹ کی آزادانہ نگرانی اور شہری آزادیوں کی ضمانت کا مطالبہ کیاگیا۔شرکاءنے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور انسانی حقوق کونسل پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال کے جائزے کے حصے کے طور پر ان خدشات کو دور کریں۔سیمینار کی نظامت کا فریضہ سید فیض نقشبندی نے انجام دیا جبکہ مقررین میں پروفیسر کرسٹا، ڈاکٹر ولید رسول ،نائلہ الطاف کیانی اور ظفر قریشی شامل تھے۔







