عدالت کا اختیارات کے غلط استعمال پرپولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم
شکایت درج کرانے کے لئے آنے والی خاتون کو ہی جھوٹے مقدمے میں پھنسادیا
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اوڑی کی ایک عدالت نے پولیس کی سنگین بدانتظامی کو بے نقاب کرتے ہوئے ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اوراس خاتون کو بری کر دیا ہے جسے اس وقت جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا جب وہ شکایت درج کرانے کے لیے پولیس اسٹیشن گئی تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت نے فاطمہ کو 2020 میں پولیس سٹیشن اوڑی میں درج ایک مقدمے میں بری کرتے ہوئے کہاکہ خاتون پر لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں اور شواہدسے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔پولیس نے ملزمہ پر ایک خاتون کانسٹیبل پر حملہ کرنے،کارسرکارمیں رکاوٹ ڈالنے، پتھراو¿ کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم عدالت نے استغاثہ کے مقدمے میں واضح تضادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں استعمال ہونے والا مبینہ پتھر ضبط نہیں کیا گیا، طبی شواہد سے زخموں کی تصدیقنہیں ہوئی اور ثبوت کے طور پر پیش کی گئی پولیس کی وردی سرکاری بیانات کے مطابق نہیں تھی۔عدالت نے کہاکہ استغاثہ کے گواہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس اسٹیشن ایک عوامی مقام ہے جہاں شہریوں کو شکایات درج کرانے کے لیے داخل ہونے کا حق ہے۔ عدالت نے کہاکہ خاتون کی غیر قانونی طور پر سرعام تلاشی لی گئی حالانکہ مسلمہ طریقہ کار کے تحت خواتین کی پردے میں تلاش لینا ضروری ہے۔، عدالت نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ اس دعویٰ کی تصدیق کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایک سرکاری میٹنگ کی وجہ سے تھانے میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ واقعے کے دوران موجود سینئر پولیس افسران کو کبھی بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ خاتون کو تھانے میں داخل ہونے سے روکنا، سرعام تلاشی لینا اور اس کے بعد اس کی شکایت پر توجہ دینے کے بجائے اس کے خلاف مقدمہ درج کرنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور پولیس کے اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس کے موبائل فون کو تباہ کرنے کے بعد اسے ایک من گھڑت کیس میں پھنسانا قانون کے غلط استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔خاتون کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے عدالت نے تفتیشی افسر اور شکایت کنندہ کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی۔عدالت نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارہمولہ کو بھی ہدایت دی کہ وہ پولیس اسٹیشنوں میں خواتین کی تلاشی کے لیے مناسب سہولیات کو یقینی بنائیں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکیں۔








