ورلڈ مسلم کانگریس کا مقبوضہ جموں وکشمیر کی ابتر صورتحال پر اظہار تشویش
جنیوا : ورلڈ مسلم کانگریس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور کشمیری عوام کی شناخت کے منظم خاتمے کی بھارتی مذموم کوششوں کی جانب مبذول کرائی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے ورلڈ مسلم کانگریس کی نمائندگی کرتے ہوبتایا کہ اگست بھارتی فورسز نے اگست 2019 کے بعد سے کم از کم 6سو بے گناہ شہریوں کو شہید کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معروف آزادی پسند رہنما یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم بٹ اور نعیم احمد خان کو دہلی کی تہاڑ جیل میں سخت ترین حالات میں رکھا گیا ہے، ان کی صحت بگڑ رہی ہے اور انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔انہوں نے بھارت کی طرف سے جاری آبادیاتی تبدیلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اب تک 42 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے اراضی قوانین کے تحت 40 ہزار ایکڑ سے زیادہ آبائی باغات اور جنگلاتی زمینیں ضبط کی گئی ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے 1989سے اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوںکو شہیدجبکہ آٹھ ہزار کو لاپتہ کیا ہے۔ بھارت کشمیریوں کی شناخت ، تہذیب وتمدن پر حملہ آور ہے۔ورلڈمسلم کانگریس نے جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں ہزاروں گمنام قبریںدریافت ہوئی ہیں۔بھارت اور مقبوضہ جموںکشمیر کی جیلوںمیں اس وقت 5ہزار سے زائد کشمیری کالے قوانین” پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے“ کے تحت قید ہیں۔ تنظیم نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کرے۔
دریں اثنا کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) کی ڈائریکٹر ریسرچ محترمہ مہرالنساءرحمان نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بڑھتے ہوئے جبر کے خلاف فوری اقدامات کرے۔انہوں نے ایجنڈا آئٹم 4 کے تحت منعقدہ ایک بحث میں، جو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 60ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی، کے موقع پر کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لوگوں کو روزانہ قتل و غارت، جبری گمشدگیوں اور بلاجواز گرفتاریوں کا سامنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت نے اگست 2019میں کشمیرکی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے عالمی قانوں اور اقوم متحدہ کی قراردادوںکی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کو جواب ٹھہرائے۔





