بھارت: ”اے پی سی آر” کا مساجد کے انہدام ، مذہبی آزادی پر حملوں پر اظہار تشویش

نئی دلی :بھارت میں ایسو ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس ( اے پی سی آر) نے ملک میں مساجد کے انہدام اور مذہبی آزادی پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”اے پی سی آر” نے مساجد کی مسماری اور مذہبی آزادی پر حملوں کے حوالے سے نئی دلی میں ایک خصوصی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے وکلا، ماہرین قانون ، دانشوروں ، انسانی حقوق کے کارکنوں ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور متاثرہ برادریوں کے افراد نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں سینئر وکیل اور سابق بھارتی وزیر سلمان خورشید ، انڈین مسلمزفار سول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان ، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفر الاسلام ، معروف مصنفہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر سیدہ حمیدہ ، انسانی حقوق کے کارکن جان دیال ، اے پی سی آر کے قومی سیکرٹری ندیم خان ، ایڈووکیٹ سید سادات علی اور ایڈووکیٹ ریاست علی شامل تھے۔ سلمان خورشید نے اپنے خطاب میںکہا کہ ہمیں انہدامی کارروائی کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، یہ ایک طویل جدوجہد ہے ، ہمیں ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں اس جدوجہد میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو موثر طریقے سے کام کرسکتے ہیں نہ کہ صرف انکے ساتھ جو ہمارے ذاتی مفادات کے قریب ہوں۔ محمد ادیب نے کہا کہ غیر قانونی انہدامی کاروائیوں میں ملوث پولیس اور انتظامی عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور ان ہی کو مالی نقصانات کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے ۔ ملک معتصم خان نے تمام متاثرہ طبقات کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ظالم کو کمزور اور مظلوم کو مضبوط ہونا چاہے ، ہم کسی کو کمزور نہیں ہونے دیں گے ۔ ظفر الاسلام نے متاثرہ برادیوں اور قانونی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کریں۔ ڈاکٹر سیدہ حمید نے کہا کہ میں بابری مسجد کے انہدام اور 2002کے گجرات فسادات کی گواہ ہوں۔ یہ آج ہمارے وجود کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ جان دیال نے اقلیتیوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے ۔یہ واقعات اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جن میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون ، کب اور کیسے کارروائی کرے گا۔ ندیم خان نے مختلف ریاستوں میںہونے والی انہدامی کارروائیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہجومی تشدد ایک رحجان بن چکا ہے اس طرح سے مساجد پر حملوں اور انہدامی کارروائیوں کا ایک منظم طریقہ سامنے آرہا ہے۔ پہلے ایک فرد کو نشانہ بنا کر خوف پیدا کیا جاتا تھا ۔ ایک پوری برادری کو نفسیاتی اور جذباتی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کیا جارہی ہے۔







