مقبوضہ جموں و کشمیر میں فرضی مشقوں سے فالس فلیگ آپریشن کے خدشات بڑھ گئے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز اور پولیس نے اتوار کے روز سرینگر کے علاقوں پارمپورہ اور ملورہ میں بڑے پیمانے پر فرضی مشقیں کیں جو علاقے میں سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل فوجی تیاریوں کا حصہ ہے، تاہم مقامی لوگوں نے اسے ایک جنگی مشق قراردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مشق میں پیراملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، محکمہ صحت، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس، ٹریفک پولیس اور سول انتظامیہ نے حصہ لیا۔اس میں گاڑیوں پر بارودی سرنگوں کے حملوں، دوبدو فائرنگ، سڑک کے حادثات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں کی گئیں ۔مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ امرناتھ یاترا کی سیکورٹی کی آڑ میں وادی کشمیر اور جموں خطے میں اس طرح کی مسلسل مشقیں دراصل جنگی تیاریوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج کے حکام اکثر کنٹرول لائن اور دیگر حساس علاقوں کا دورہ کرتے رہتے ہیں جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بی جے پی حکومت یاتریوں کے تحفظ کے نام پر ایک اورفالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔کشمیریوں کا کہنا ہے کہ مسلح مزاحمت کے عروج کے دوران جب پوری وادی مجاہدین کے کنٹرول میں تھی، کسی ہندو یاتری کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے باوجود بی جے پی کے زیرقیادت بھارتی حکومت نے مئی سے تلاشی کارروائیاں، پابندیاں اور فوجی مشقیں تیز کر دی ہیں جنہیں مقامی لوگ انتہائی مشکوک اور خطرناک سمجھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت متنازعہ علاقے میں اپنے ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے امرناتھ یاترا کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دے رہی ہے۔ یاترا 3 جولائی 2026 کو شروع ہونے والی ہے۔سرینگر موک ڈرل کے علاوہ بھارتی فورسز نے امرناتھ غار کی طرف جانے والے برف سے دھکے پہاڑی راستوںکے 18 اہم مقامات پربھی مشقیں کی ہیں۔ بھارتی پولیس، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر مشتمل پینتالیس خصوصی ماو¿نٹین ریسکیو ٹیمیں 48 کلومیٹر طویل پہلگام اور 14 کلومیٹر طویل بالتل کے راستوں پر تعینات کی گئی ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں، جدید آلات سے نگرانی اور بار بار کی جانے والی فرضی مشقیں یاتریوں کی حفاظت کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر پراپنے قبضے کو مستحکم کرنے، علاقے میںخوف کی فضا پیدا کرنے اور کشمیریوں کے خلاف ظلم و جبر کے نت نئے بہانے تلاش کرنے کے لئے ہیں۔







