مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر : مزید 16کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط

 

جموں: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںبھارتی قابض انتظامیہ نے ریاسی اور رام بن اضلاع میں مزید 16کشمیری کارکنوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دلی کے نصب کرددہ لیفٹیننٹ گورنر کے بھارتی پولیس نے رام بن ضلع میں گیارہ جبکہ ریاسی ضلع میں پانچ کشمیری کارکنوں کی لاکھوں روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی ہیں۔اطلاعات کے مطابق غیر کشمیری اور آر ایس ایس/بی جے پی کے ہندوتوا نظریات کے حامی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے ریاسی ضلع سے تعلق رکھنے والے پانچ کشمیری کارکنوں کی تقریبا 1.7ہیکٹر اراضی ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کارکنوں پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رام بن ضلع میں مجموعی طور پر 15کنال اور 3مرلہ اراضی ضبط کی گئی ہے، جبکہ بھارتی پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے)سمیت دیگر کالے قوانین کے تحت مزید پانچ کارکنوں کی غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی ہیں ۔بھارتی پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی مبینہ طورپر”بھارت مخالف” اور "آزادی پسند ” سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کی گئی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جائیدادوں کی ضبطی کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور معاشی طور پر کمزور بنانے کا ایک نیاہتھکنڈہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق کالے قوانین نے بھارتی فورسز کو کشمیریوں کو گرفتار کرنے، طویل عرصے تک نظربند رکھنے، قتل کرنے اور ان کی جائیدادیں بغیر کسی عدالتی کارروائی کے ضبط کرنے کے وسیع اختیارات دے رکھے ہیں۔اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے کشمیریوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضے کی مہم مزید تیز کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کشمیری عوام کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔رواں سال کے دوران بھارتی حکام سو سے زائد کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر چکے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button