پنجاب میں بی جے پی کی مبینہ "انجینئرڈ افراتفری”کی حکمتِ عملی بے نقاب
بی جے پی اقتدار پر گرفت مضبو ط کرنے کیلئے فسطائی حکمت عملی پر مسلسل عمل پیرا
چندی گڑھ: بھارت میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت 2027کے پنجاب اسمبلی انتخابات سے قبل اقتدار پر اپنی گرفت مذید مضبوط کرنے کیلئے اختلافِ رائے کو کچلنے اور مرکز کے کنٹرول کو بڑھانے کے لیے عدم تحفظ پیدا کرنے کی اپنی فسطائی حکمتِ عملی پر مسلسل عمل پیرا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ناقدین کاکہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پنجاب میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ماضی کی طرح حالیہ واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتیاں اور کالے قوانین کا بے دریغ استعمال سیاسی دبا ئوبڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق رواں سال5اور 6مئی کو پنجاب میں دو دھماکے ہوئے۔ پہلا واقعہ جالندھر میں بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے قریب پیش آیا، جبکہ دوسرا دھماکہ امرتسر کی فوجی چھائونی کی بیرونی دیوار کے قریب ہوا۔ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔دھماکوں کے بعد پنجاب میں سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتیاں کی گئیں، جن میں بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور آر اے ایف کے اہلکار شامل تھے۔ ناقدین کے مطابق بار بار بڑے پیمانے پر سکیورٹی اقدامات سے ریاست میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جس میں عام شہریوں کو مسلسل خوف اور دہشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب میں ماضی میں بھی سکیورٹی اقدامات کے نام پرکالے قوانین، چھاپوں اور گرفتاریوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں، کارکنوں اور حکومت مخالف آوازوں کو بعض اوقات کالے قوانین کے تحت نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ اختلافِ رائے کو قومی سلامتی کے معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بی جے پی کے بعض حلقے پنجاب میں عام آدمی پارٹی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ریاست میں مزید مرکزی مداخلت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے اقدامات پنجاب کے سیاسی اور سماجی ماحول میں تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔مبصرین کاکہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے بجائے انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ امن و امان کے مسائل کا حل شفاف تحقیقات، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے، نہ کہ خوف کی فضا پیدا کرنے میں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام امن، سیاسی حقوق اور سماجی ہم آہنگی چاہتے ہیں، جبکہ کسی بھی مصنوعی بحران یا غیر ضروری دبائو سے ریاست میں بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔






