قابض حکام نے میر واعظ عمر فاروق کو سرینگر میں اپنے گھر میں نظر بند کر دیا
مزار شہداءکو سیل کیا جاسکتا ہے لیکن شہداءہمارے دلوں میں بستے ہیں: میر واعظ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو 13 جولائی 1931 کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کے لیے سرینگر میں اپنے گھر میں نظر بند کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ کو مزار شہداءنقشبند صاحب جانے سے روکنے کے لیے نظر بند کر دیا گیا۔میرواعظ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ہم اپنے شہداءکوگہرے جذبات اور عقیدت کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے 95 سال قبل آج ہی کے دن عظیم قربانی دے کرانصاف، وقار اور انسانی حقوق کے لیے عوامی جدوجہد کی بنیاد رکھی، یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے۔میرواعظ نے کہاکہ یہ تکلیف دہ اورافسوسناک ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے اورانکے لئے فاتحہ خوانی کرنے سے زبردستی روکا جا رہا ہے اور مزار شہدا، نقشبند صاحب کی طرف جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ میرواعظ نے کہاکہ جامع مسجد سرینگر کے ارد گرد پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور مجھے ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزار شہداءکو سیل کیا جاسکتا ہے، سڑکیں بندکی جا سکتی ہیں اور لوگوں کو قید کیا جا سکتا ہے، لیکن شہداءہمارے دلوں میں اور ہماری اجتماعی یاد وںمیں ہمیشہ زندہ رہیں گے، اللہ انہیں اور جموں و کشمیر کے تمام شہداءکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس نے 13 جولائی 1931 کے شہداءکو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اورکشمیری قوم کے عظیم مقصد اور ان کے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے ان کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ 13 جولائی 1931 ایک تاریخی دن ہے جب ان شہداءنے ظلم و استبداد کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شہداءکی یادیں اور قربانیاں کشمیری عوام کے دل و دماغ میں پیوست ہیں اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔







