مودی کے بیرون ممالک دورے رسوائی کی علامت
دورہ آسٹریلیا کے دوران بھی مودی کا میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے گریز

اسلام آباد :مودی کے ذاتی مفاد کیلئے بیرون ممالک دورے سفارتی کامیابی کے بجائے عالمی تنقید کا نشانہ بننے لگے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عالمی میڈیا کی رپورٹس میں نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کو محض اندرون اور بیرونِ ممالک ذاتی تشہیر کا ذریعہ قرار دیاگیا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیوزی لینڈ کے ایک صحافی نے سرکاری دورے کے دوران مودی سے میڈیا کا سامنا نہ کرنے پر سوال اٹھا دیا۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں مودی کا بیرون ممالک میڈیا کا سامنا نہ کرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔دورہ نیوزی لینڈ سے قبل آسٹریلیا کے دورے کے دوران بھی نریندر مودی نے آسٹریلوی میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیاتھا، اس سے قبل ناروے میں صحافی ہیلے لنگ کا مودی سے براہِ راست سوال پہلی بار عالمی توجہ کا مرکز بن گیا تھا، 2026کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 180ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے۔بھارتی صحافی سنگیتا بروا پشاروتی کا کہناہے کہ گزشتہ11سال میں بھارت کا گودی میڈیا اب عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بھارتی اپوزیشن رہنمائوں نے مودی کے عالمی اور مقامی میڈیا سے براہ راست سوالات سے گریز کو جواب دہی کا فقدان قرار دیاہے۔بھارتی صحافی غزالہ وہاب کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوریت کی آڑ میں میڈیا کی آزادی سے اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے تک ہر چیز کی اجازت ہے۔








