جموں یونیورسٹی نے لیجنڈز آف جموں وکشمیر کے منصفین پر پابندی پبلیشرز کو بلیک لسٹ کردیا

جموں : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ”جموں یونیورسٹی نے "پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیراور گریٹ پرسنالٹیز آف جموں و کشمیر” نامی کتب کے تین مصنفین پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ اور دو پبلیشرز کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ مذکورہ کتب میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند اور قابل اعتراض مواد شامل ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پابندی کا شکار مصنفین میں ہلال احمد، سنتوش مینا، اور ڈاکٹر سشانت گری جبکہ بلیک لسٹ پبلشرز میں اوبرائے بک سروس جموںاور انوراگ پرکاشن دہلی شامل ہیں۔
جموں و کشمیر کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حکم نامے کے تحت ان تمام کتب کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے تمام شعبوں اور لائبریریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ مصنفین و ناشرین کی کسی بھی قسم کی مطبوعات کو فوری طور پر اپنی تحویل سے نکال دیں۔
یاد رہے کہ سی آئی ڈی اور کانٹر انٹیلی جنس ونگ کی جانب سے متنازعہ مواد کی اشاعت پر ایف آئی آر درج کر کے پبلشرز سمیت متعدد افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
نئی دلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے قبل ازیں محکمہ سکول ایجوکیشن کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا تھا اور دو کتب کی اشاعت کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔








