APHC-AJK

گلگت میں حریت رہنماﺅں کی پریس کانفرنس، مختلف سیاسی،سماجی اور مذہبی رہنماﺅں کی شرکت

 

گلگت: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے گلگت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 19 جولائی 1947ءکی تاریخی قراردادِ الحاقِ پاکستان کی اہمیت کو اجاگرکیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پریس کانفرنس میں گلگت بلتستان کی مختلف سیاسی، سماجی اورمذہبی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس میں شرکت کرنے والے رہنماﺅں میں سابق وزیر اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد طفیل خان، اہل سنت والجماعت کے قانونی مشیر بیرسٹر اطہر محمود، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما آغا بلال، جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مولانا تنویر حیدری، دینی مشاورتی کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا حسین احمد، آئی ٹی پی کے مرکزی رہنما شیخ محمد اسلم، وزیراعلیٰ ہاو¿س گلگت بلتستان کے ترجمان حاجد علی اوردیگر شامل تھے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے اس موقع پر کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جس کا واحد منصفانہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ جمہوری جدوجہد کو ترجیح دی، تاہم 1987ءکے متنازع انتخابات کے بعد ان کا جمہوری عمل پر اعتماد اٹھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور گزشتہ 78 برس سے کشمیری عوام اپنے پیدائشی اور بنیادی حق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سیاسی اور آئینی پیشکشیں کشمیری عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں، کیونکہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے ہوگا تو مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام مل کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر 84 ہزار مربع میل پر مشتمل ایک متنازع خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس اسی حق کے حصول کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کر رہی ہے، لیکن بھارت تحریکِ آزادی کو دبانے کے لیے حریت قیادت کو جیلوں میں بند کرنے، جائیدادیں ضبط کرنے اور سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام اپنے حق کے حصول کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
سابق وزیر اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے کہا کہ آج گلگت بلتستان کی مختلف سیاسی و سماجی قوتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس امر کا واضح پیغام ہے کہ کشمیری عوام کی آزادی اور ان کے حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد میں مضمر ہے۔اہل سنت والجماعت کے قانونی مشیر بیرسٹر اطہر محمود نے کہا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے اصولی موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام اپنی منزلِ مقصود حاصل نہیں کر لیتے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما آغا بلال نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو قومی ترجیح سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہر سطح پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی، جس پر انہیں فخر ہے۔جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مولانا تنویر حیدری نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ تحریکِ آزادی کشمیر کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کی ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی تک یہ حمایت پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
پریس کانفرنس میں شریک تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور شہداءکی عظیم قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام ہر مرحلے پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور حقِ خودارادیت کے لئے ان کی منصفانہ جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھیں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button