بھارت اور اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں یکساں طرز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں،غلام محمد صفی
لاہور: کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیرشاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیراورفلسطین میں قابض قوتیں ایک ہی طرز کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ، جس میں آبادیاتی تبدیلی، فوجی محاصرہ، سیاسی آزادیوں کی بندش، میڈیا پر قدغن اور مزاحمت کو دہشت گردی کے نام پر بدنام کرناجیسے اقدامات شامل ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام محمد صفی نے لاہور میں جماعتِ اسلامی کے سہہ روزہ اجتماع کے موقع پراپنے خطاب میںکہا کہ بھارت غیر کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر ڈومیسائل جاری کر کے مقبوضہ جموںوکشمیرمیں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کھلی کوشش کر رہا ہے، اس نے انتخابی حلقہ بندیوں میں سیاسی مقاصد کے تحت تبدیلیاں کی ہیں، مقامی قیادت اور نوجوانوں کو مسلسل گرفتار کیا ہے اور اظہارِ رائے، مذہبی آزادی اور بنیادی شہری حقوق کو مکمل طور پر پامال کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ تمام اقدامات جنوبی ایشیا کے اسٹریٹیجک توازن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔غلام محمد صفی نے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستیں مقبوضہ علاقوں میں یکساں طرز کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، جن میں حریت اور حق خودارادیت کو جرم بنا نا، ریاستی جبر مسلط کرنا اور عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے جدید اسلحے، سکیورٹی سسٹمز اور انٹیلی جنس تعاون کا استعمال شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ حکمت عملی کا مقصد نہ صرف عوامی مزاحمت ختم کرنا ہے بلکہ ان خطوں کو مستقل طور پر قابض قوتوں کے زیرِ تسلط رکھنا ہے۔
انہوںنے مزیدکہاکہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا بنیادی معاملہ ہے ،اقوام متحدہ نے کشمیریوںکاحق خود ارادیت تسلیم کررکھاہے اوراس حوالے سے کئی قراردادیں پاس کی ہیں جنہیں بھارت نے بھی تسلیم کر رکھا ہے لیکن اب وہ ان قراردادوں سے انحراف کر کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے ۔غلام محمد صفی نے مزیدکہاکہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان صرف سیاسی نہیں بلکہ جذباتی، تاریخی اور ایمانی رشتہ موجود ہے اور کشمیری عوام پاکستان کے عوام کی مسلسل حمایت، یکجہتی اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ غلام محمد صفی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار اداکرے۔







