بھارتی نوجوانوں کی احتجاجی تحریک زور پکڑنے لگی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج
بھارتی پولیس کی بربریت نے بیرون ملک مقیم بھارتی نوجوانوں کو بھی مشتعل کر دیا

نئی دہلی : بھارت میںنام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ ایک بارپھر بے نقاب ہوگیا جہاںپولیس نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو شدید تشدد اور گولیوں کا نشانہ بنا یا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں اور خواتین پردہلی پولیس کی بربریت شرمناک ہے، مودی نے پولیس کوغنڈہ گردی پر لگا رکھا ہے۔بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی مودی اور پولیس کی غنڈہ گردی کو پر امن جمہوری احتجاج کرنے والے بھارتی نوجوانوں کی تذلیل قرار دیا ہے۔عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق بھارتی پولیس نے پارلیمنٹ کی جانب جانے والی سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم کو روکنے کیلئے نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔نیویارک ٹائمز کا کہنا تھا کہ احتجاج میں شامل 60 سے زائد افراد کو گرفتار جبکہ دہلی کے 2 اسپتالوں میں 100 سے زائد زخمی افراد کو لایا گیا جبکہ بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی نوجوانوں کے احتجاج کے دوران بھارتی پولیس کی سفاکیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر پولیس کی بربریت نے بیرون ملک مقیم بھارتی نوجوانوں کو بھی مشتعل کر دیا ہے برطانیہ کے شہر مانچسٹر اور لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرین نے مودی کے ظالمانہ اقدامات کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔امتحانی اسکینڈل سے شروع ہونے والا بھارتی نوجوانوں کا احتجاج مودی کے آمرانہ نظام کیخلاف ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے اوروہ مودی کی سفاکیت اور تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں پر وزیر اعظم اور وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔





