مقبوضہ کشمیر :حریت کانفرنس کا ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریوں، گھروں کی مسماری پر اظہارتشویش

سرینگر:کل جماتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری مولوی بشیرعرفانی نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی، اجتماعی سزائوں، ہزاروں بے گناہ شہریوں کی گرفتاری، گھروں کی مسماری، مذہبی آزادی پرقدغن اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مولوی بشیر عرفانی نے جو تحریک شباب المسلمین کے چیئرمین بھی ہیںسرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران تقریبا 3,500بے گناہ کشمیری نوجوانوں اور شہریوں کو مختلف کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیاہے جبکہ وادی بھر میں گھروں پر چھاپوں، تلاشی کی کارروائیوں، خوف و ہراس پھیلانے اور اجتماعی سزا کے اقدامات میں غیر معمولی اضافہ ہواہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں رہائشی مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ خاندان بے گھر اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عام کشمیری بشمول خواتین، بچے، بزرگ اور بیمار افراد شدید ذہنی دبائو، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔مولوی بشیر عرفانی نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے والے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور مخیر افراد کو بھی پوچھ گچھ، دھمکیوں، گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث معاشرے میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو مساجد میں عبادت سے روکنا، مذہبی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنا، نوجوانوں کو بلاجواز حراست میں لینا، گھروں کو مسمار کرنا اور پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینا بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن، انصاف اور استحکام طاقت اور جبر کے ذریعے نہیں بلکہ انسانی وقار، قانون کی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کے احترام سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔مولوی بشیر عرفانی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس نہ لیا تو اس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں، اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کئی دہائیوں سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے اور اس کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔حریت رہنماء نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ گرفتار افراد کو فوری طور پر قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، گھروں کی مسماری اور اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے ۔




