این آئی اے نے تحقیقات کے سلسلے میں 40 اساتذہ کو طلب کیا

سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں این آئی اے کے چھاپے

nia

سرینگر 10اکتوبر (کے ایم ایس)غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے قتل کے حالیہ واقعات کی تحقیقات کے سلسلے میںآج 40 اساتذہ کو طلب کیا ہے ۔ این آئی اے نے ان واقعات کی تحقیقات کی ذمہ داری باقاعدہ طورپر پولیس سے لے لی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) میں انسداد دہشت گردی ونگ کے سربراہ تپن ڈیکا سمیت ادارے کے اعلیٰ عہدیداروں نے سرینگر میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔وادی میں شہریوں کے قتل سے متعلق مختلف تھانوں میں درج ایف آئی آرز کے سلسلے میں پولیس پہلے ہی 500 سے زائد افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔این آئی اے نے سرینگر شہر کے علاقے عیدگاہ میں اسکول کے احاطے کے اندر قتل ہونے والے پرنسپل سپندر کور اور استاد دیپک چند کے قتل کی تحقیقات سنبھال لی ہیں۔این آئی اے نے سرینگر کے چرچ لین دفتر میں 40 اساتذہ کو طلب کیاہے جن کا تعلق سرینگر شہر کے مختلف اسکولوں سے ہے۔
دریں اثناءاین آئی اے نے پہلے سے درج مختلف کیسز میں علاقے کے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کے ہمراہ آری پورہ زیون کے رہائشی نعیم احمد بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا ۔ رپورٹ کے مطابق این آئی اے نے باغ نند سنگھ چھتہ بل کے رہائشی مشتاق احمد ڈار کے گھر کی بھی تلاشی لی اور دیگر چیزوں کے علاوہ پانچ موبائل فون ضبط کئے۔ این آئی اے اہلکاروں نے سولینہ پائین کے رہائشی سہیل احمد بٹ کے گھر پر چھاپہ مارا اور بہاو¿ الدین صاحب نوہٹہ کے رہائشی طاہر احمد نجار کے گھر کی تلاشی لی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایس پی نوین کمار اور ڈی ایس پی آر کے پانڈے کی قیادت میں این آئی اے کی پانچ رکنی ٹیم نے میر محلہ اچھہ بل میں بھی ایک گھر کی تلاشی لی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: