بھارت

ضمیر کی آواز پر ”وندے ماترم“ نہ گانے پر سزا نہ دی جائے، سپریم کورٹ

شہریوں کو گانے پر مجبور کرنا مذہبی تصدیق پر مجبور کرنے کے مترادف

نئی دلی: سپریم کورٹ نے ریاست کرناٹک کے معروف کلاسیکی موسیقار ٹی ایم کرشنا کی طرف سے دائر رٹ پٹیشن پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے ۔پٹیشن میں قومی گیت وندے ماترم کی توہین کی روک تھام سے متعلق ایکٹ1971میں رواں برس کی جانے والی ترمیم کی دستوری حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ ترتیم قومی گیت وندے ماترم کو تعزیری تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ عرضداشت میں وزارت داخلہ کی ان ہدایات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جن میں سرکاری تقاریب میں اس گیس کے مکمل چھ بند گانا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس سوریا کانت ، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس پٹیشن کی سماعت کی۔ بنچ نے کہا کہ گوکہ یہ فیصلہ کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے کہ قومی گیت کیا ہے تاہم وہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا ضمیر کی بنیاد پر اختلاف کرنے والے شخص کا اسے نہ گانے کا حق محفوظ ہے یا نہیں جیسا کہ بیجوئی ایمانوئل کیس میں تسلیم کیا گیا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ بیجوئی ایمانوئل کی نظیر پر عمل کیا جائے گا اور مذہی وجوہات کی بنا پر اسے نہ گانے والے کسی بھی شخص کو فوجداری نتائج کا سامنا نہیںکرنا پڑے گا۔
کرشنا نے اپنی عرضداشت میں کہا ہے کہ وندے ماترم کے آخری چار بند میںدرگا لکشمی اور سرسوتی سمیت ہندو دیویوں کا واضح ذکر موجود ہے اور شہریوں کو انہیں گانے پر مجبور کرنا مذہبی اور نظریاتی تصدیق پر مجبور کرنے کے مترادف ہے جو کہ آئین کے سیکولر کردار کے منافی ہے۔درخواست گزار کی طرف سے جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈاکٹر ایس مرلی دھر نے موقف اختیار کیا کیا کہ ترمیم میں یہ واضح نہیںکیا گیا کہ قومی گیت کیا ہے اور اس ابہام کا غلط استعمال ہوسکتا ہے ،یہ ترمیم بغیر کسی قومی اتفاق رائے کے عجلت میں منظور کی گئی ہے ۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو اپنا جواب دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس قانون پر اس ملک کا وہ قانون نافذ ہوگا جو اس عدالت نے بیجوئی ایما نوئل کیس میں طے کیا تھا ۔عدالت نے مزید کہا کہ وندے ماترم سے وابستہ قومی جذبات یا امنگوں کا اندازہ لگانا ریاست کا کام ہے۔ تاہم ضمیر کی بنیاد پر اعتراض کرنے والے کا یہ حق ہے کہ وہ ایک یا تمام بند نہ گائے اور ریاست اسکے خلاف کوئی فوجداری کارروئی نہ کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button