مقبوضہ جموں و کشمیر

سیاحتی مقام یوس مرگ کی مسلسل بندش سے لوگ پریشان

سیاحت پر انحصار کرنے والے لوگوں کوفاقہ کشی کا سامنا

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پہلگام حملے کے بعدنام نہاد حفاظتی اقدامات کے نام پر دیگر سیاحتی مقامات کی طرح ضلع بڈگام کا سیاحتی مقام یوس مرگ بھی لوگوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیاتھاجس سے سیاحتی شعبے سے وابستہ مقامی افرادکا ذریعہ آمدن بند ہوگیا اوروہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلسل پابندیوں سے سیاحت پر انحصارکرنے والے بہت سے خاندانوں کی آمدنی ختم ہوگئی اورقابض حکام مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یوس مرگ میں ہوٹلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور سیاحت کی سرگرمیاں ٹھپ ہیں جس سے ہوٹل مالکان، ٹورسٹ گائیڈ، پورٹر، ڈرائیور، دکاندار اور مزدور متاثر ہوئے ہیں۔ علاقے کے زیادہ تر گھرانوں کے لیے سیاحت معاش کا بنیادی ذریعہ ہے۔ایک مقامی شخص نے بتایاکہ صورتحال اس قدر مایوس کن ہے کہ لوگ خود کو آگ لگانے کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سیکورٹی کو سمجھتے ہیں لیکن جو بات ہم نہیں سمجھتے وہ یہ ہے کہ یوس مرگ جیسے پرامن مقام کو بغیر کسی وضاحت کے غیر معینہ مدت کے لیے کیوں بند کیا جا رہا ہے۔ ایک اورشخص نے کہا کہ ہمیں فاقہ کشی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ہمارے بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے ہوٹل بند ہیں۔یوس مرگ کی معیشت مکمل طور پر سیاحت پر مبنی ہے جس میں روزگار کے محدود مواقع ہیں۔ مقامی رہائشیوں نے کہا کہ طویل بندش سے لوگوں کو مالی دباو¿کا سامنا ہے ۔ایک مقامی رہائشی نے بتایا ہم نے قرضے لے رکھے ہیں اور اگر یوس مرگ اسی طرح بند رہا تو ہم ان کی واپسی کیسے کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کئی خاندان روزمرہ کے اخراجات کے لیے رقم ادھار لے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ علاج میں تاخیر کر رہے ہیں ۔ لوگوں نے بتایاکہ انہوں نے ضلعی حکام، محکمہ سیاحت اور شکایات سیل کو متعدد رخواستیں دیںلیکن جواب نہیں ملا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات کی مسلسل بندش سے کشمیریوں کو درپیش معاشی مشکلات کے حوالے سے قابض حکام کی بے حسی ظاہرہوتی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں حالات معمول پرآنے کے مودی حکومت کے بلندو بانگ دعوﺅں کی قلعی کھل جاتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button