مقبوضہ جموں و کشمیر

جموں وکشمیر کی تسلیم شدہ بین الاقوامی متنازعہ حیثیت کو محض بیانات سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا: ماہرین قانون

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ماہرین قانون نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ابھی ہونا باقی ہے اور کسی بھی غیر ملکی سفیر کے بیانات سے جموں وکشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی سفیر سرجیو گور کے دورہ سرینگر کے دوران مبینہ طور پر کشمیر کو بھارت کا اہم حصہ قرار دینے کے بیان پرسخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ماہرین قانون نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اب بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس کا حل کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے سے وابستہ ہے۔ماہرین نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے1948،1950،1951،1952اور1957میں منظور کی گئی قراردادیں 47،51، 80، 91، 98، 122، 123اور126 مسئلہ کشمیر سے متعلق بین الاقوامی قانونی اور سفارتی ریکارڈ کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی بیانات یا یکطرفہ دعوئوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ تنازعہ کی تاریخ کو محض اسے حل شدہ معاملہ قرار دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین قانون نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت اور پاکستان کی طرف بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی ، جو جموں و کشمیر میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ ک زیر انتظام قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی مبصر گروپ کی تاریخی موجودگی بھی مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفارتکاروں پر زور دیا کہ وہ خطے کی حیثیت کے بارے میں کوئی رائے دینے سے قبل اقوام متحدہ کے ریکارڈ اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا مکمل مطالعہ کریں۔ماہرین نے کہا کہ ‘کشمیر میں تاریخ سے لاعلمی سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتی’۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے سے متعلق کسی بھی بامعنی سفارتی رابطے میں کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو ضرورمدنظر رکھنا چاہیے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button