وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی سرکاری موقف کو چیلنج کر دیا
عمر عبداللہ کاجموں وکشمیر سے متعلق حل طلب لیگیسی ایشوز کا اعتراف
سرینگر: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر سے متعلق حل طلب لیگیسی ایشوز کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے اس سرکاری بیانیے کو چیلنج کیا ہے کہ تنازعہ کشمیر مکمل طور پربھارت کا داخلی اور حل شدہ معاملہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے امریکی سفیر سرجیو گور کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے موقع پر واشنگٹن کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر براہِ راست سیاسی و سفارتی مشاورت کا عندیہ دیا۔کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے سے متعلق بھارتی سرکاری موقف کی توثیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق بعض اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔انہوں نے خطے کے لیے ایک الگ قانونی و سیاسی حیثیت کی ضرورت پر زور دیا ۔عمر عبداللہ کا موقف بھارتی حکومت کے اس دعوے سے مختلف ہے جس کے تحت بھارت پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسے بھارت میں ضم کرنے کے معاملے کو مکمل اور ناقابلِ واپسی قرار دیتا ہے۔ان کے بیان سے جموں و کشمیر کو محض بھارت کا داخلی معاملہ قرار دینے کے بجائے امریکی شمولیت کی گنجائش نمایاں ہوگئی۔انہوں نے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران کشمیر کے معاملے پر براہِ راست واشنگٹن کے کردار کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو محض بھارت کا داخلی معاملہ قرار دینے کے بجائے عالمی سفارتی مشاورت کی گنجائش تسلیم کرتے ہیں۔
دریں اثنا، امریکی سفیر سرجیو گور کے کشمیر سے متعلق بیان پر بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ ناقدین نے ان کے بیان کو مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور زمینی حقائق سے لاعلمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حساس علاقائی تنازعے پرمکمل تاریخی بریفنگ اور سنجیدہ سفارتی فہم ضروری ہے۔ناقدین نے امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک حل طلب دیرینہ تنازعہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر جیسے پیچیدہ اور دیرینہ تنازع پر مختلف اور متضاد بیانات بھارتی سفارتی حکمت عملی اور متعلقہ حکام کی جانب سے غیر ملکی سفارتکاروں کو فراہم کی جانے والی بریفنگ پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے حل طلب معاملات اور امریکی مشاورت کی ضرورت کا اعتراف اس امر کو واضح کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض بھارت کا داخلی معاملہ قرار دے کر اس کی تاریخی، سیاسی اور بین الاقوامی جہتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔





