بھارت

اترپردیش : بی جے پی حکومت نے 59سالہ قدیم مدرسہ کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا

لکھنو : بھارتی ریاست اترپردیش میں بی جے پی حکومت نے ضلع سدھارتھ نگر میں 59 سال پرانے مدرسے کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا، جس پر اپوزیشن رہنمائوں اور سماجی کارکنوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسی اور غیر آئینی اقدام قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عربیہ ضیا العلوم مدرسہ، جسے مکتب مدرسہ بھی کہا جاتا ہے، ضلع سدھارتھ نگر کے گائوں پپرا رام لال میں تقریبا 14ہزار مربع فٹ رقبے پر قائم تھا۔ انتظامیہ نے عدالت کے حکم کے بعد مدرسے کو مبینہ طور پر سرکاری اراضی پر تجاوزات قرار دیتے ہوئے مسمار کردیا۔2022 میں پانچ دیہاتیوں نے ڈومریا گنج تحصیل عدالت سے مبینہ تجاوزات ختم کرانے کی درخواست کی تھی، جس پر عدالت نے 2023 میں مدرسہ خالی کرانے کا حکم دیاتھا۔ مدرسے کے نگران عبدالسلام نے اسی سال ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کیاتھا۔تقریبا تین سال تک جاری رہنے والی سماعت کے بعدڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے 14 اگست 2026 کو تحصیل عدالت کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مدرسہ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی۔بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے مبینہ تجاوزات ختم کرانے کا نوٹس جاری کیا اور مدرسے کی عمارت گرانے کے لیے بلڈوزر پہنچا دیے۔ کارروائی کے دوران پانچ پولیس اسٹیشنوں سے تقریبا 100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔مدرسہ مسمارکرنے کے خلاف ڈومریا گنج سے سماج وادی پارٹی کی رکن اسمبلی سیدہ خاتون، ایس پی کے ضلعی صدر لال جی یادو اور 50سے زائد پارٹی کارکنوں نے موقع پر پہنچ کر احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کر کے راستہ بند کر دیا ۔تاہم اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی اور تلخ کلامی بھی ہوئی ۔تقریبا دو گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کے دوران مدرسے کے سات کمرے، ایک دکان اور مرکزی ہال کا نصف حصہ مسمار کر دیا گیا۔عام آدمی پارٹی کی اترپردیش شاخ ، کانگریس رہنما جاوید اشرف خان ،سیاسی کارکن عبدالرقیب خان اور دیگر نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مدرسے کی مسماری بی جے پی کی مسلمانوں کے خلاف کھلی نفرت انگیز مہم کا حصہ ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button