بھارت

بھارت:بی جے پی حکومت کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی500 کروڑ روپے مالیت کی زمین پر قبضہ

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نے اس کی 3.8 ایکڑ سے زائد اراضی پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے جس کی مالیت تقریباً 500 کروڑ روپے ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ معاملہ بھارت میں مسلمانوں کی املاک اور اداروں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔یونیورسٹی نے کہا کہ حکام نے 20 اگست کو علی گڑھ میں متنازعہ اراضی کے گرد باڑ لگا دی اور وہاں ایک بورڈ نصب کر دیا جس پر حکومت کی ملکیت کا دعویٰ کیا گیا، حالانکہ یونیورسٹی کے پاس تاریخی دستاویزات موجود ہیں جو اس اراضی پر اس کی ملکیت کے دعوے کو ثابت کرتی ہیں۔یہ تنازعہ بھامولا مافی،نگلا پٹواری علاقے میں اے ایم یو کے رائیڈنگ فیلڈ سے منسلک اراضی سے متعلق ہے۔ شہری ادارے نے ریونیو پیمائش کے بعد اراضی کے گرد باڑ لگائی اور دعویٰ کیا کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ میں یہ زمین سرکاری ملکیت کے طور پر درج ہے۔اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس اقدام کو بلاجواز اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے پاس ایک صدی سے زائد پرانی قانونی دستاویزات موجود ہیں جو اس اراضی پر اس کی ملکیت ثابت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔یونیورسٹی نے 1925 اور 1940 کے حصولِ اراضی کے ریکارڈز کے علاوہ جنوری 2022 میں تیار کی گئی ایک مشترکہ پیمائش رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں متنازعہ اراضی کو رائیڈنگ فیلڈ کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کاکہنا ہے کہ 1992 میں اس کے ریونیو ریکارڈز میں خفیہ طور پر تبدیلیاں کی گئی تھیں۔اے ایم یو کے پراکٹر نوید خان نے کہا کہ یہ معاملہ مقامی سب ڈویڑنل مجسٹریٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہے، جبکہ اے ایم یو ٹیچرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ ضرورت پڑنے پر اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔اس اقدام نے بھارت میں مسلمانوں کی املاک، تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے وسیع تر خدشات کو جنم دیا ہے جہاں مسلم برادریاں بارہا اپنی املاک اور اداروں کو نشانہ بنانے والے انتظامی اور قانونی اقدامات کی شکایات کرتی رہی ہیں۔دریں اثناءضلعی مجسٹریٹ نے موجودہ پوزیشن کو برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ دستاویزات اور ریونیو ریکارڈز کا جائزہ لینے کے بعد دونوں فریقوں کا مو¿قف سنا جائے گا۔یہ تنازعہ ایک بار پھر بھارت میں مسلمانوں کی املاک اور اداروں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو اجاگر کرتا ہے جہاں انتظامی اور قانونی عمل کو مسلمانوں کی املاک اور اداروں پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button