مغربی بنگال: بی جے پی حکومت نے مدارس کو نشانے پر رکھ لیا
تمام اضلاع کو 5جولائی تک رپورٹ دینے کی ہدایت
کولکتہ: بھارتی ریاست مغربی بنگال میں حالیہ متنازعہ انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی بی جے پی حکومت نے ریاست بھر کے مدارس کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے اور تمام ضلعی مجسٹریٹوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں قائم مدارس کے بارے میں تفصیلی رپورٹ 5جولائی تک ارسال کریں ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محکمہ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مدارس کا جائزہ ایک انتظامی مشق ہے اور ضلع مجسٹریٹوں سے مدارس کے قیام کی تاریخ ، رجسٹریشن کی حیثیت ، زیر تعلیم طلباء کی تعداد نیز تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی گئی ہیں ۔ مدارس کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ متعلقہ مدرسہ رہائشی نوعیت کا ہے یا غیر رہائشی ، آیا اسے نجی یا سرکاری معاونت حاصل ہے اور نصاب تعلیم کونسا ہے۔ محکمہ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اگر کسی مدرسے میں بے ضابطگیاں پائی گئیں تو قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی ۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مغربی بنگال ڈائر یکٹوریٹ آف مدرسہ ایجوکیشن نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ریاست بھر کے تمام سرکاری امداد یافتہ اور منظور شدہ مدارس میںکلاسوں کے آغاز سے قبل اسمبلی کی دعا کے دوران ”وندے ماترم” مکمل طور پر پڑھنا لازمی قرار دیا تھا ۔





