سینٹرل جیل سرینگر سے دو زیرِ سماعت قیدی فرار

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کی سینٹرل جیل سے دو زیرِ سماعت قیدی فرار ہو گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوںمیں ایک غیر کشمیری بھارتی شہری بھی شامل ہے ۔ ان کے خلاف بچوں کو جنسی تشدد سے بچانے کے قانون (POCSO) کے تحت الگ الگ مقدمات میں کارروائی کی گئی تھی۔ حکام نے بتایا کہ دونوں قیدی ہائی سکیورٹی جیل کی سامنے والی دیوار پھلانگ کر فرار ہوگئے۔فرار ہونے والے قیدیوں کی شناخت بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے سدن پورہ کے رہائشی فرمان خان اور جنوبی کشمیرمیں ضلع اسلام آباد کے علاقے سنگلن چھترگل کے رہائشی مختار احمد گوجر کے طور پر ہوئی ہے۔حکام کے مطابق فرمان خان کو 23 جون کو ضلع گاندربل کے لار پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں جیل میں رکھا گیا تھا۔اسی طرح مختار احمد گوجر کو 13 اپریل کو سرینگر کے صورہ پولیس اسٹیشن میں درج ایک الگ ایف آئی آر کے سلسلے میں جیل میں رکھا گیا تھا۔حکام نے بتایا کہ فرار ہونے والے قیدیوں کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاش شروع کر دی گئی ہے۔








