ہندوتوا اورصہیونیت: متضاد عقائد مگر سیاسی نظریہ میں ہم آہنگ
ارشد میر
عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں بعض نظریاتی اتحاد ایسے بھی ابھر رہے ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ حالیہ رپورٹس اور واقعات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ ہندو فسطائی نظریہ، جسے عام طور پر ہندوتوا کے نام سے جانا جاتا ہے، بتدریج صہیونی فکر کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ نظریاتی ہم آہنگی صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ خارجہ پالیسی، سفارتی رویوں اور عالمی تنازعات کے حوالے سے عملی اقدامات میں بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار اسے عالمی امن کے لیے ایک اضافی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
برطانوی جریدے دی مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ نے بھارت کی اس منافقانہ خارجہ پالیسی کو بے نقاب کیا ہے جس میں وہ ایک طرف ایران کے ساتھ دوستی اور تعاون کے دعوے کرتا ہے اور دوسری جانب عملاً اسرائیل کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ جریدے نے اس تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں ایران کے خلاف کشیدگی عروج پر تھی تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگ کے آغاز سے محض دو دن قبل اسرائیل کا دورہ کیوں کیا؟ اس سوال نے نہ صرف بھارت کی سفارتی ترجیحات کو بے نقاب کیا بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ نئی دہلی کی پالیسی اب روایتی توازن کے بجائے ایک واضح جھکاؤ اختیار کر چکی ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی ماضی میں غیر وابستگی اور توازن کی علامت سمجھی جاتی تھی مگر موجودہ دور میں یہ تاثر تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایران جیسے اہم علاقائی شراکت دار کے ساتھ تعلقات کے باوجود اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنی سفارتی حکمت عملی کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف حملے اور ایرانی قیادت کے نقصان پر بھارتی حکومت کی جانب سے طویل خاموشی کو کئی مبصرین نے سفارتی بے حسی قرار دیا۔ حتیٰ کہ ایرانی عوام کے لیے رسمی تعزیتی پیغام تک جاری نہ کرنا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ نئی دہلی کے لیے نظریاتی اتحاد انسانی ہمدردی اور سفارتی آداب سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
اس تضاد کی ایک اور مثال چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبے سے بھارت کی بتدریج دستبرداری ہے۔ یہ منصوبہ کبھی ایران اور بھارت کے درمیان اقتصادی تعاون کی علامت سمجھا جاتا تھالیکن بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں بھارت کی ترجیحات تبدیل ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ صرف سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی صف بندی کا حصہ ہے جس میں ہندوتوا اور صہیونی فکر کے درمیان ہم آہنگی نمایاں ہو رہی ہے۔
اس نظریاتی ہم آہنگی کا ایک اور پہلو امریکہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہے جہاں ایرانی سرزمین پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد کچھ بھارتی نژاد افراد کی جانب سے جشن منانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں دوسری جنگ عظیم کی یادگار کے قریب بھارتی نژاد افراد کے رقص اور خوشی کے مناظر نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ چھتیس گڈھ سمیت بھارت کے کئی علاقوںمیں بھی ایران پر جارحیت، بدترین خون ریزی اور ایرانی قیادت کے المناک نقصان پر مٹھائیاں بانٹنے اور جشن منانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ جنگ اور انسانی جانوں کے ضیاع جیسے حساس معاملے پر اس طرح کی خوشی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ غیر انسانی رویہ ہے بلکہ یہ اس ذہنیت کی عکاسی بھی کرتا ہے جو انتہائی سفاک اور سیاسی اور نظریاتی وابستگیوں کو انسانی ہمدردی پر ترجیح دیتی ہے۔
یہ واقعات محض چند افراد کا عمل نہیں بلکہ اس وسیع تر رجحان کی علامت ہے جس کے تحت بھارت کے اندر اور بیرون ملک بھارتی ہندوتوا نظریے کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی پوسٹس اور ویڈیوز نے اس بحث میں مزید شدت پیدا کردی کہ بھارت میں تو ہندو انتہاء پسند تنظیموں کی شہہ پر اور حکومتی تعاون سے نفرت و سفاکیت کا یہ کھیل کھیلا جارہا ہے تو کیا بھارتی تارکین وطن کے کچھ نیٹ ورکس بھی عالمی تنازعات اور المناک سانحات کو نظریاتی جشن کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ رجحان نہ صرف سفارتی حساسیت کے منافی ہے بلکہ عالمی سطح پر کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ ہندوتوا اور صہیونیت کے درمیان اس قدر نظریاتی قربت کیوں پیدا ہو رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر دونوں نظریا ت ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ہندو Polytheism یعنی کئی خداؤں کے پیرو کار ہیں جبکہ یہود Monotheism یعی صرف ایک خدا کے ماننے والے ہیں۔اور پھر بی جے پی اور دیگر ہندو قوم پرست جماعتوں کا نظریاتی سرچشمہ یا مادری تنظیم راشڑیہ سوئم سیوک سنگھ (RSS) ہے جس کے بانیان گولوالکر اور سواریکر نازی ازم سے بہت متاثر تھے جس کا انھوں نے اپنی کتب اور کئی بیانات میں کھل کر اظہار بھی کیا ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ نریندر مودی اور دیگر ہندو انتہاء پسند رہنماؤں نے اپنے نظریاتی بانیان کے اس بیانیہ سے کبھی رجوع نہیں کیا۔ یعنی گویا وہ بدستور اس سے متاثر یا قائل ہیں اور ویسے بھی کشمیر، پاکستان اور اپنی اقلیتوں کے ساتھ سلوک سے وہ اسکا عملی اظہار بھی کررہے ہیں۔ تو اس اعتبار سے ہندوتوا اور صہیونیت دو مخالف انتہاؤں پر کھڑی نظر آتی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ پھر کون سے وہ عوامل ہیں جو انکو ایک جگہ جمع کررہے ہیں؟
دونوں نظریات کی بنیادیں دراصل اس ایک طرز فکر میں پیوست ہیں جس میں مذہبی یا نسلی شناخت کو ریاستی پالیسی کا مرکز بنایا جاتا ہے۔ صہیونیت ایک ایسی ریاستی فکر کو فروغ دیتی ہے جو مخصوص مذہبی شناخت کو سیاسی بالادستی فراہم کرتی ہےجبکہ ہندوتوا بھی بھارت کو ایک کثیر الثقافتی معاشرے کے بجائے ہندو اکثریت کی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی مشترکہ بنیاد دونوں نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔
اسی وجہ سے عالمی مبصرین اس اتحاد کو صرف سفارتی شراکت داری کے طور پر نہیں بلکہ ایک نظریاتی گٹھ جوڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جب دو ایسے نظریات ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں جو مذہبی قوم پرستی کو سیاسی طاقت کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سیاست پر بھی پڑتے ہیں۔ اس طرح کی صف بندی بین الاقوامی تعلقات کو مزید قطبی بنا سکتی ہے اور پہلے سے موجود تنازعات کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔
عالمی امن کے تناظر میں یہ رجحان اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ یہ انسانی ہمدردی، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی توازن جیسے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ جب جنگ یا حملے کو نظریاتی فتح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس سے امن کے امکانات مزید کمزور ہو جاتے ہیں۔ ایران پر انسانیت کُش جارحیت پر بھارتیوں کا جشن منانا اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں انسانی المیے کو سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ دنیا پہلے ہی متعدد جنگوں اور بحرانوں سے دوچار ہے، ایسے میں اگر قوم پرستانہ اور مذہبی بنیادوں پر قائم نظریات عالمی سیاست میں مزید اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں تو یہ امن و استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عالمی سطح پر ذمہ دارانہ سفارت کاری اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دنیا کی سلامتی صرف عسکری طاقت یا سیاسی اتحادوں سے نہیں بلکہ اعتدال، رواداری اور ذمہ دارانہ قیادت سے وابستہ ہے۔ اگر ہندوتوا اور صہیونیت جیسے نظریات کا اشتراک عالمی سیاست میں مزید گہرا ہوتا گیا تو اس کے اثرات خطوں کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر عالمی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس رجحان کو سنجیدگی سے لے اور ایسے نظریاتی اتحادوں کے ممکنہ اثرات کا بروقت ادراک کرے۔ کیونکہ امن کی بقا کا انحصار اسی شعور اور ذمہ داری پر ہے۔






