سردار مسعود خان کاعالمی برادری پر مشرق وسطیٰ کے بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے پر زور
اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ غیرمعمولی حد تک خطرناک ہو چکا ہے اور یہ موجودہ دور کا سب سے سنگین عالمی تصادم بن سکتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے فوری اختتام کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا فیصلہ سفارتی کوششوں کے بجائے محاذ جنگ پر ہی ہوگا۔ سردار مسعود خان کے مطابق بیک چینل مصالحت کی کوششیں جاری ہیں لیکن مذاکرات کئی بار رک چکے ہیں اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تنازعہ جغرافیائی اور اسٹریٹجک طور پر پھیل رہا ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے تیل کی تنصیبات، ریفائنریز اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس سمیت اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے جنگ میں ایک نیا اور خطرناک پہلو شامل ہوگیا ہے۔ یہ حملے صرف عسکری کارروائیاں نہیں بلکہ ماحولیاتی اور انسانی زندگی کے لیے بھی سنگین خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد آلودہ بارش اور ماحولیاتی آلودگی کی اطلاعات اس تنازعے کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔سردار مسعود خان نے کہا کہ اسکولوں، رہائشی علاقوں اور عوامی سہولیات پر بمباری کی وسعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل انسانی نقصان رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تنازعہ وسیع جغرافیائی اور عالمی سیاسی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ روس اور چین دونوں نے ایران پر حملوں پر تنقید کی ہے اور ممکن ہے کہ وہ محدود ٹیکنالوجی یا انٹیلی جنس مدد فراہم کریں، تاہم کسی بھی بڑی طاقت کی براہ راست مداخلت کے امکانات کم ہیں کیونکہ اس سے عالمی جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔سردار مسعود خان نے کہا کہ جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاو¿ اور بین الاقوامی تجارت کے اہم سمندری راستوں کی بندش سے عالمی سطح پر مالی و اقتصادی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹجک پوائنٹس میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نازک اسٹریٹجک توازن کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان ایران اور خلیجی ریاستوں خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اپنے اسٹریٹجک شراکت داروں کی سلامتی سے متعلق صورتحال پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترجیح سفارتی رابطے اور تنازعے کی شدت کو کم کرنا ہے۔ پاکستان خطے کے ممالک کے درمیان رابطوں کی سہولت فراہم کر رہا ہے اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے بات چیت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ اس پیمانے کی جنگ کے نتائج پوری بین الاقوامی نظام کے لیے غیر متوقع ہو سکتے ہیں، اس لیے عالمی برادری کی فوری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ تنازعے کی شدت کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں تاکہ یہ بحران پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔








