مقبوضہ جموں و کشمیر

یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون، معاہدوں اور عوام کے حقوق کو ختم نہیں کر سکتے:ڈی ایف پی

 

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، معاہدوں کی پاسداری اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف ایک اہم اصولی پیش رفت قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈ ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ عدالت کے فیصلے سے اس امر کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے فریقین میں سے کوئی ایک فریق اپنی مرضی سے ایسا یکطرفہ قدم نہیں اٹھا سکتا جو معاہدے کے بنیادی ڈھانچے اور دوسرے فریق کے حقوق کو متاثر کرے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ محض پانی یا دریاو¿ں کے معاملے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک اہم اصول پوشیدہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں اور متنازعہ علاقوں سے متعلق معاملات میں طاقت کے زور پر یکطرفہ فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ ترجمان نے کہا کہ چونکہ سندھ طاس معاہدہ جموں و کشمیر کے متنازعہ خطے سے گزرنے والے دریاو¿ں اور وہاں قائم آبی منصوبوں سے متعلق ہے، اس لیے یہ فیصلہ بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات پر بھی سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے جن کے ذریعے وہ جموں کشمیر کی زمینی اور سیاسی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی اسی ذہنیت کی عکاس ہے۔ بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی متنازعہ خطے پر یکطرفہ آئینی، انتظامی یا قانونی اقدامات کے ذریعے نہ تو اس تنازعے کی حقیقت ختم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو سلب کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا فیصلہ کشمیری عوام کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ بھارت کا کوئی یکطرفہ فیصلہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ جموں وکشمیر کی حیثیت کا فیصلہ طاقت، قبضے یا یکطرفہ قانون سازی سے نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور دنیا آج بھی اس تنازعے کے حتمی حل کی منتظر ہے۔ بھارت کی طرف سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات ان بین الاقوامی ذمہ داریوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حق کو ختم نہیں کر سکتے۔انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لے اور تنازعہ جموں کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے لیے بامعنی سفارتی کوششیں تیز کرے۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ پاکستان کے عوام کے لیے خوش آئند ہے، لیکن کشمیری عوام کے لیے اس کا پیغام اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قانون، معاہدوں اور عوام کے تسلیم شدہ حقوق کو ختم نہیں کر سکتے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button