مقبوضہ جموں و کشمیر

این آئی اے عدالت نے پانچ سال سے نظربند اسکول ٹیچر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی

 

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتیجبر کی ایک اور مثال سامنے آئی ہے جہاں جموں میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے ایک نجی اسکول ٹیچر کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے جو من گھڑت الزامات پر گزشتہ پانچ سال سے جیل میں نظربند ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خصوصی جج پریم ساگر نے ضلع ڈوڈہ کے علاقے تنتنا کے رہائشی تنویر احمد ملک کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر موجود موادبادی النظر میں اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مسلح افراد کو پناہ ، راشن اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے میں ملوث رہا ہے اور اس کی رہائی مقدمے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔تنویر احمد ملک کو یکم مارچ 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا اور بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) نے 22 مئی 2021 کو ان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی۔ یہ مقدمہ ابتدا میں کشتواڑ پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے)، آرمز ایکٹ، این ڈی پی ایس ایکٹ اور انڈین پینل کوڈ کے تحت درج کیا گیا تھا جسے بعد میں این آئی اے نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ایف آئی آر 8 مارچ 2019 کو پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے جس میں بعض نامعلوم افراد نے کشتواڑ کے ا±س وقت کے ڈپٹی کمشنر کی سکیورٹی پر مامور ایک ہیڈ کانسٹیبل سے ہتھیارچھین لیا تھا۔این آئی اے کا کہنا ہے کہ تنویر ملک جون 2019 سے جنوری 2020 کے درمیان ایک ’اوور گراو¿نڈ ورکر‘ کے طور پر کام کرتے ہوئے مسلح افرادکو کھانا، پناہ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرتارہا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ وکیل صفائی نے طویل نظربندی کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی اور نشاندہی کی کہ ملک پانچ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، تاہم اب تک ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا۔ این آئی اے نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ ان کی رہائی مقدمے کو متاثر کر سکتی ہے۔قانونی ماہرین اور انسانی حقوقِ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یو اے پی اے کے تحت پانچ سالہ نظربندی کے بعد بھی ضمانت سے انکار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت کالے قوانین کو شہریوں کو مجرم قرار دینے، ان کی ن©ظربندی کو طول دینے اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ہزاروں کشمیری جن میں اساتذہ، طلبہ، صحافی اور سیاسی کارکن شامل ہیں، یو اے پی اے اور پی ایس اے کے تحت اسی طرح طویل عرصے سے بغیر مقدمہ چلائے نظربندہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button