کتابوں کی بنیاد پر جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا
مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ کاکالے قانون کے تحت گرفتار اسکالر کی رہائی کا حکم
سرینگر :غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک کشمیری اسکالر کی غیر قانونی نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی شخص کی پاس موجود کتابوں کو جرم کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس موکشا کھجوریہ کاظمی نے پی ایس اے کے غلط استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ کے گائوں ککروسا کے رہائشی نوجوان ماہرِ تعلیم شفاعت مقبول وانی کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ شفاعت وانی کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپواڑہ کے حکم پرگرفتار کیا گیا تھا۔قابض حکام نے ان کی نظر بندی کے جواز میں ان کی علمی سرگرمیوں، زیرِ مطالعہ کتابوں اور خاندانی پس منظر کو بنیاد بنایا تھا۔ شفاعت وانی گریجویٹ طالب علم ہیں اور انہیں کولمبیا یونیورسٹی اور ڈبلن سٹی یونیورسٹی میں تحقیقی مقالے پیش کرنے کی دعوت بھی مل چکی تھی۔ اس سے قبل جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے بھی شفاعت کواایک مقدمے میں ریلیف دیا تھا۔گزشتہ سال8 ستمبر کو این آئی اے عدالت نے شفاعت کی155روز سے زائد ریمانڈ میں توسیع کی پولیس کی درخواست مسترد کی تھی، جبکہ پانچ روز بعدانہیں ضمانت پر رہائی کے احکاما ت جاری کئے گئے تھے ۔ ضمانت ملنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی کپواڑہ انتظامیہ نے انہیں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا تھا ۔ قابض انتظامیہ نے شفاعت پر الزام عائد کیاتھا کہ اس کے والد ماضی میں البرق سے وابستہ رہے تھے ،جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا گیا کہ مبینہ طور پر بھارت مخالف جذبات ان کے بیٹے میں بچپن ہی سے موجود تھے۔ نظر بندی کے حکم میں ان کے پاس سے برآمد ہونے والے لٹریچر کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں خود شفاعت وانی کی تصنیف”ہندوتوا کے نئے تصور میں اسلامی نظام کی تعمیر”بھی شامل تھی۔ تاہم ہائیکورٹ نے نظر بندی کے لیے پیش کیے گئے جواز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ والد کے ماضی کی بنیاد پر بیٹے میں کسی نظریے کے پنپنے کا دعویٰ ایک ”وہم اور اختیارات کا غیر محتاط استعمال”ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ نظر بندی کی دستاویزات میں بعض کتابیں غلط طور پر شفاعت وانی کی جانب منسوب کی گئی تھیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ حتی کہ کسی اسکالر کی جانب سے مختلف اور بعض اوقات متنازع یا ناگوار خیالات پر مبنی مواد کا مطالعہ یا اس کا پاس رکھنا بذاتِ خود جرم ثابت نہیں کرتا۔ عدالت نے قرار دیا،محض کتابوں کی موجودگی کسی شخص کومجرم نہیں بنا دیتی۔ ہائیکورٹ نے شفاعت کی نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قابض انتظامیہ کو اس کی فوری رہائی کی ہدایت کی۔
ایک اور فیصلے میں مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید چار کشمیریوںکی غیر قانونی نظر بندی کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ جسٹس ایم اے چوہدری نے اسلام آباد کے سری گفوارہ کے رہائشی اشفاق احمد وانی، بجبہارہ کے فردوس احمد ڈار اورقلم آباد کپواڑہ کے شوکت احمد بٹ کے کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی کالعدم قراردی جبکہ جسٹس سنجے دھر نے سرینگر کے رہائشی فیضان یاسین شالہ کی غیر قانونی نظر بندی حکم کو کالعدم قرار دی۔ عدالت نے انتظامیہ کو چاروںکشمیریوںکی فوری ریائی کا حکم بھی دیا ۔







