بھارت: مغربی بنگال میں مسلمانوں کو دستاویزات کے باوجود نشانہ بنایا جارہا ہے
کولکتہ: بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست مغربی بنگال میں حکام نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے رات گئے چھاپوں کے دوران تقریباً ایک درجن مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قراردیتے ہوئے گرفتارکرلیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی خبر رساں ادارے Scroll.in نے رپورٹ کیا ہے کہ جون سے اب تک کم از کم نو مسلمان مردوں اور دو بچوں کو گرفتارکیاجاچکا ہے۔جن میں زیادہ تر کا تعلق مسلم اکثریتی ضلع مرشدآباد سے ہے اور انہیں اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کا موقع دیے بغیر حراستی مراکز میں بھیج دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے رشتہ دار عملاً لاپتا ہوچکے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ پولیس اکثر رات کے وقت چھاپے مارنے آتی تھی، لیکن نہ تو وارنٹ پیش کرتی تھی، نہ گرفتاری کا ریکارڈ اور نہ ہی فوجداری شکایات کی نقول فراہم کرتی تھی۔
گرفتارکئے گئے کئی افراد کے پاس ووٹر کارڈ، زمین کے ریکارڈ، سرکاری دستاویزات یا دیگر ایسے ثبوت موجود ہیں جن کے بارے میں ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلق کو ثابت کرتے ہیں۔ کم از کم چار افراد نے بھارت کی حالیہ انتخابی فہرستوں کی تصدیقی مشق جسے اسپیشل اینی شیٹیوریویژ ن (SIR) کہا جاتا ہے، بھی کامیابی سے مکمل کی تھی۔ان میں سے 61 سالہ ابراہیم شیخ کو مرشدآباد میں ان کے گھر سے اس وقت اٹھا گیا جب پولیس اہلکاروں نے ان سے دستاویزات طلب کیں اور پوچھا کہ وہ بھارتی ہیں یا بنگلہ دیشی۔
ابراہیم کی بہو پروین خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اہلکاروں کو اپنا آدھار کارڈ اور ووٹر کارڈ دکھایا، لیکن اس کے باوجود انہیں لے جایا گیا۔ بعد ازاں ان کے اہل خانہ نے پولیس کو مزید ریکارڈ بھی پیش کیے، جن میں پنشن کے کاغذات اور زمین کی ملکیت کی دستاویز شامل تھی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہ تو شیخ سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی بتایا گیا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ پروین خاتون نے بتایاکہ پولیس نے اسے بس غائب کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران اہلکاروں نے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے کہا کہ ہندوو¿ں کو ”دل کے قریب“ رکھا جائے گا جبکہ مسلمان ”ہمارے قدموں کے نیچے“ ہیں اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندوو¿ں کو بھی بھارتی شہری بنایا جا سکتا ہے۔
ایک اور واقعے میں 67 سالہ جلیل اختر کو اپنے گھر کے باہر سوتے ہوئے اٹھایا گیا، حالانکہ شہریت سے متعلق ووٹروں کی جانچ پڑتال کے بعد بھی ان کا نام انتخابی فہرست میں موجودہے۔عبدالجبار کو مرشدآباد کے ایک دوسرے گھر سے ان کے آٹھ اور چھ سالہ بیٹوں سمیت اٹھا لیا گیا۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بھارتی پاسپورٹ، ووٹر کارڈ اور بھارتی پیدائش کا سرٹیفکیٹ موجود ہے اور وہ حالیہ انتخابی تصدیقی عمل مکمل کرنے کے بعد ووٹ بھی دے چکے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی نگرانی کے بغیر لوگوں کو حراست میں رکھنا یا انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع نہ دینا آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے۔انسانی حقوق کی کارکن کیرتی رائے نے کہاکہ یہ پولیس ریاست نہیں ہے۔ کسی بھی شخص کو حراست میں لینا، اسے بنگلہ دیشی قرار دینا اور بغیر کسی تحقیقات کے واپس دھکیل دینا غیر قانونی ہے۔
اہلخانہ اور وکلا کئی مقدمات کو عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں، جبکہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ شہریت کی اس مہم کے تحت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنیادی قانونی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس مہم میں مسلم اور غیر مسلم تارکین وطن کے درمیان امتیاز کیا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ س±ویندو ادھیکاری نے مئی میں کہا تھا کہ مشتبہ بنگلہ دیشی دراندازوںکو عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کے بجائے براہِ راست بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کرکے ملک بدر کیا جا سکتا ہے، جبکہ انہوں نے واضح طور پر ان ہندو تارکین وطن کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جو بھارت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے تحت شہریت کے اہل ہیں۔سی اے اے پڑوسی مسلم اکثریتی ممالک سے تعلق رکھنے والی چھ غیر مسلم مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے، تاہم مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ناقدین نے اس قانون کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ مذہب کی بنیاد پر تارکین وطن کے درمیان فرق کرتا ہے۔





